نیٹو کے ساتھ کشیدگی بڑھنے پر روس کی کالینن گراڈ کے معاملے میں جوہری آپشن کی وارننگ
ماسکو نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ اگر نیٹو کالینن گراڈ کے خطے کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرے تو جوہری ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اتحاد اصرار کرتا ہے کہ اس کی سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور اس دھمکی کو مسترد کرتا ہے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

سکائی نیوز عربیہ کی رپورٹ کے مطابق، روس نے نیٹو کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحاد کالینن گراڈ کے خطے کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو جوہری ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
نیٹو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں اس کی سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور روسی علاقے کو نشانہ نہیں بناتیں، ساتھ ہی یوکرین کے لیے اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور ماسکو کی جوہری دھمکیوں کو مسترد کر دیا۔
کالینن گراڈ، بحیرہ بالٹک میں واقع ایک روسی خطہ ہے جس کی سرحدیں نیٹو ارکان پولینڈ اور لتھوانیا سے ملتی ہیں، یہ بارہا روس اور مغربی اتحاد کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہے۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نیٹو کے کن مخصوص اقدامات نے ماسکو کی وارننگ کو جنم دیا، اور نہ ہی اتحاد کے متوقع ردعمل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔ دستیاب رپورٹ میں روس-نیٹو تعلقات کی وسیع تر صورتحال کے بارے میں اضافی سیاق و سباق شامل نہیں تھا۔
ذرائع
- روسيا تلوح بالنووي.. كالينينغراد تشعل التوتر مع الناتو — Sky News Arabia — World
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

پوتن کا کہنا ہے کہ اگر کالینن گراڈ پر حملہ ہوا تو روس جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے
ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ اگر کالینن گراڈ خطے پر براہ راست حملہ ہوا تو روس جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے یوکرین کے ساتھ طویل فاصلے کے حملوں کو باہمی طور پر روکنے کی تجویز مسترد کر دی، سکائی نیوز عربیہ کے مطابق۔

پوتن کی مغرب کو تنبیہ: روس کالینن گراڈ کے تحفظ کے لیے 'ہر ہتھیار' استعمال کرے گا
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو کالینن گراڈ کے دفاع کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کرنے کو تیار ہے، جبکہ انہوں نے اصرار کیا کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دے رہا بلکہ صرف مغربی بیانات کا جواب دے رہا ہے۔ بی بی سی نے یہ خبر دی۔
روسی ڈرونز کا کییف کے جنوبی پل پر دوبارہ حملہ، دنیپر کے پار راستے محدود
روسی افواج نے کییف کے دریائے دنیپر پر واقع جنوبی پل کو چند گھنٹوں کے دوران تین مرتبہ نشانہ بنایا، جس کے باعث دریا کے پار پلوں پر ٹریفک کو محدود کر دیا گیا۔

یوکرینی سفارتکار کا کہنا ہے کہ جنگ سے متعلق نقصانات 600 ارب ڈالر تک پہنچ گئے
ہنگری میں یوکرین کے سفیر نے کہا کہ روس کے ساتھ تنازعے سے ہونے والے نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں۔
پوتن نے ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مرحوم سیکرٹری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرسکتے تھے۔

پوتن نے کہا کہ روس کا حملہ تیز ہو رہا ہے، اقتصادی پائیداری کا دفاع کیا
روسی صدر نے 'خصوصی فوجی آپریشن' زون میں آپریشنز کی رفتار کے بارے میں بات کی اور جسے انہوں نے یورپی جارحیت قرار دیا اس پر تنقید کی۔