پوتن کا کہنا ہے کہ اگر کالینن گراڈ پر حملہ ہوا تو روس جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے
ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ اگر کالینن گراڈ خطے پر براہ راست حملہ ہوا تو روس جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے یوکرین کے ساتھ طویل فاصلے کے حملوں کو باہمی طور پر روکنے کی تجویز مسترد کر دی، سکائی نیوز عربیہ کے مطابق۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ اگر ان کے ملک کے کالینن گراڈ خطے پر براہ راست حملہ ہوا تو روس جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، سکائی نیوز عربیہ کے مطابق۔
پوتن نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ماسکو کے پاس موجود ہر قسم کے ہتھیار زیر غور ہوں گے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس روسی خطے پر کسی بھی ممکنہ حملے کو کتنی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں، جو بحیرہ بالٹک میں پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع ہے۔
باہمی حملہ روکنے کی تجویز مسترد
انہی بیانات میں، پوتن نے روس اور یوکرین کے درمیان طویل فاصلے کے حملوں کو باہمی طور پر روکنے کی ایک تجویز مسترد کر دی، رپورٹ کے مطابق، اور کیف اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پیش کیے گئے کشیدگی میں کمی کے اقدامات کو مسترد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
کالینن گراڈ ایک بھاری فوجی موجودگی والا روسی علاقہ ہے جو اپنی تزویراتی اہمیت اور وہاں روس کی جانب سے جدید ہتھیاروں کے نظام کی تنصیب کی وجہ سے نیٹو ارکان پولینڈ اور لتھوانیا کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں رہا ہے۔
سکائی نیوز عربیہ کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پوتن نے اس وقت جوہری منظرنامہ کیوں پیش کیا، اور نہ ہی اس میں کالینن گراڈ کے خلاف کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی کی گئی جس نے یہ بیانات دینے پر اکسایا ہو۔
ذرائع
- بوتين يلوح بالنووي إذا تعرضت كالينينغراد لهجوم — Sky News Arabia — World
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

پوتن کی مغرب کو تنبیہ: روس کالینن گراڈ کے تحفظ کے لیے 'ہر ہتھیار' استعمال کرے گا
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو کالینن گراڈ کے دفاع کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کرنے کو تیار ہے، جبکہ انہوں نے اصرار کیا کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دے رہا بلکہ صرف مغربی بیانات کا جواب دے رہا ہے۔ بی بی سی نے یہ خبر دی۔

پوتن کا کہنا ہے کہ بالادست طاقتیں کثیرقطبی دنیا کی آمد کو تسلیم کر رہی ہیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ عالمی نظام ایک نئے، زیادہ مستحکم توازنِ طاقت کی طرف بڑھ رہا ہے، اور یہ تجویز کیا کہ بالادست ریاستیں کثیرقطبیت کی طرف تبدیلی کو قبول کرتی جا رہی ہیں۔

پوتن کا کہنا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ امریکہ سے تعلقات کا تناؤ 'ماضی کی بات' بن جائے
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ عشروں میں پیدا ہوا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلقات میں موجودہ کشیدگی حل ہو سکتی ہے، یہ بات ٹاس نیوز ایجنسی کے مطابق ہے۔

شدید فضائی حملوں کے دوران روسی ڈرون حملے نے کیف میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا
حملوں نے شہر کے مرکزی پل کو بھی نشانہ بنایا، جس سے یوکرینی دارالحکومت پر روسی حملوں کی تازہ لہر میں ٹرانسپورٹ متاثر ہوئی۔

پوتن نے سوویت یونین کے انہدام کو کروڑوں لوگوں کے لیے المیہ قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ملک کی سوویت یونین کے بعد کی تبدیلی ایک جاری عمل ہے۔

روسی ڈرونز کا کیف میں پل، نیوکلیئر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسکول پر حملہ
یوکرین کی جوہری ایجنسی کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ری ایکٹر حملے کی زد میں نہیں آیا، جبکہ روس ملک بھر میں ڈرون حملے تیز کر رہا ہے۔