کرسٹا پائیک ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت سے بچ گئیں
ان کے وکلاء کے مطابق، 50 سالہ سزائے موت کی قیدی پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں، اور انہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
50 سالہ سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک بدھ کے روز ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت سے بچ گئیں، جب آخری وقت میں دی گئی مہلت کو منسوخ کر دیا گیا تھا، ان کے وکلاء کے مطابق۔
وکلاء کے بیانات کے مطابق، قیدی خاتون مہلک انجیکشن میں استعمال ہونے والی دوا پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں۔ ان کے وکلاء نے بتایا کہ انہیں سزائے موت کی جگہ کے قریب واقع ایک ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
وکلاء نے مزید بتایا کہ انہیں اپنی مؤکلہ کی موجودہ صحت کی حالت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے کارروائی کے فوری نتائج غیر واضح ہیں۔
سزائے موت کو عارضی طور پر ملتوی کیا گیا تھا، اس سے پہلے کہ آخری مہلت کو منسوخ کر کے کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ حکام نے ان حالات کی وضاحت نہیں کی جن کی وجہ سے انجیکشن ناکام ہوا۔
اس واقعے سے امریکہ میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کے طریقہ کار پر بحث دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے، جو پہلے ہی اپنی بھروسے مندی اور درکار طبی نگرانی کے معاملے پر بار بار تنازعات کا شکار رہا ہے۔
ذرائع
- Christa Pike : la condamnée à mort a survécu à l’injection létale aux Etats-Unis, après un ultime sursis annulé — Le Monde — Une
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین
کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔
امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔
کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشن ناکام ہونے کے بعد ابتری کا شکار
مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی ہائی پروفائل سزائے موت اس وقت رک گئی جب مہلک انجیکشن کی دو خوراکیں اسے ہلاک کرنے میں ناکام رہیں۔
ٹینیسی دو مہلک انجیکشن خوراکوں کے باوجود کرسٹا پائیک کو موت نہ دے سکا
1995 کے ایک قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والی پائیک کے بارے میں چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ مہلک خوراکیں دیے جانے کے تقریباً 40 منٹ بعد وہ خراٹے لیتی ہوئی سنائی دیں۔

امریکی سپریم کورٹ نے ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کی پھانسی کا راستہ صاف کر دیا
عدالت نے وفاقی اپیل عدالت کے اسی دن جاری کردہ آخری لمحے کے اسٹے کو منسوخ کر دیا۔
امریکہ میں مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشنز کے باوجود ناکام
پائیک، جو اپنی ایک ہم جماعت کو تشدد کرکے قتل کرنے کے جرم میں 30 سال سے زائد عرصے سے سزائے موت کی قیدی ہے، بدھ کے روز اسے ہلاک کرنے کے لیے دیے گئے مہلک انجیکشنز کی ناکامی کے بعد ایک طبی مرکز منتقل کر دی گئی۔