کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
NPR نیوز کے مطابق، ٹینیسی کے حکام بدھ کے روز کرسٹا گیل پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود اسے سزائے موت نہ دے سکے۔
پائیک کو 1995 میں ہونے والے ایک قتل کے الزام میں موت کی سزا دی گئی تھی، اور اس کی سزائے موت اسی دن مقرر تھی۔
رپورٹ کے مطابق، ناکام کوشش کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کے لیے مقرر باقی سزائے موت کو روک دیا۔
مزید سزائے موت روکنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ حکام مستقبل کے معاملات میں آگے بڑھنے سے پہلے بدھ کی کوشش میں کیا غلط ہوا، اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پائیک کی موجودہ طبی حالت اور ناکام مہلک ٹیکے کے پیچھے مخصوص حالات کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر مکمل طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔
اس واقعے کے بعد جب ریاست اپنے طریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے تو اس معاملے سے ٹینیسی کے سزائے موت کے طریقہ کار پر نئے سرے سے توجہ مرکوز ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین
امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔
کرسٹا پائیک ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت سے بچ گئیں
ان کے وکلاء کے مطابق، 50 سالہ سزائے موت کی قیدی پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں، اور انہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشن ناکام ہونے کے بعد ابتری کا شکار
مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی ہائی پروفائل سزائے موت اس وقت رک گئی جب مہلک انجیکشن کی دو خوراکیں اسے ہلاک کرنے میں ناکام رہیں۔
ٹینیسی دو مہلک انجیکشن خوراکوں کے باوجود کرسٹا پائیک کو موت نہ دے سکا
1995 کے ایک قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والی پائیک کے بارے میں چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ مہلک خوراکیں دیے جانے کے تقریباً 40 منٹ بعد وہ خراٹے لیتی ہوئی سنائی دیں۔

امریکی سپریم کورٹ نے ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کی پھانسی کا راستہ صاف کر دیا
عدالت نے وفاقی اپیل عدالت کے اسی دن جاری کردہ آخری لمحے کے اسٹے کو منسوخ کر دیا۔
امریکہ میں مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشنز کے باوجود ناکام
پائیک، جو اپنی ایک ہم جماعت کو تشدد کرکے قتل کرنے کے جرم میں 30 سال سے زائد عرصے سے سزائے موت کی قیدی ہے، بدھ کے روز اسے ہلاک کرنے کے لیے دیے گئے مہلک انجیکشنز کی ناکامی کے بعد ایک طبی مرکز منتقل کر دی گئی۔