کرسٹا پائیک، جو امریکہ میں سزائے موت کی منتظر ہیں، دو مہلک انجیکشنز سے بچنے کے بعد ہسپتال میں داخل
ان کے وکلاء نے تصدیق کی کہ پائیک، جو اپنی ساتھی طالبہ کے قتل میں ملوث ہونے کے وقت 18 سال کی تھیں، ناکام سزائے موت کی کوشش کے بعد بھی زندہ ہیں۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
کرسٹا پائیک، جنہیں امریکہ میں سزائے موت دی گئی تھی، کو ان کی مقررہ سزائے موت کے دوران دیے گئے دو مہلک انجیکشنز سے بچ جانے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جیسا کہ یورونیوز کے حوالے سے ان کے وکلاء نے بتایا۔
پائیک 18 سال کی تھیں جب انہوں نے اور اس وقت کے اپنے بوائے فرینڈ نے نوجوانوں کے ایک پیشہ ورانہ تربیتی کیمپ میں 19 سالہ کولین سلیمر کو مار مار کر قتل کر دیا تھا۔
اس کیس نے خاصی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ پائیک امریکہ میں سزائے موت پانے والی چند خواتین میں سے ایک ہیں، اور اس غیر معمولی بات کی وجہ سے بھی کہ انجیکشنز لگائے جانے کے باوجود سزائے موت پر عملدرآمد ناکام ہو گیا۔
ان کے وکلاء نے اس تصدیق کے سوا کہ وہ بدستور ہسپتال میں ہیں، ان کی موجودہ صحت کی حالت کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
سزائے موت کے طریقہ کار میں اس ناکامی نے استعمال کیے گئے پروٹوکول کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں، جس کا متعلقہ حکام آنے والے دنوں میں جائزہ لے سکتے ہیں۔
پائیک کا کیس قریب سے دیکھا جاتا رہے گا جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کس سمت میں آگے بڑھے گی۔
ذرائع
- Christa Pike, condenada a muerte en EE.UU., hospitalizada tras sobrevivir a 2 inyecciones, según sus abogados — Euronews (Español)
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین
امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت، جسے بالآخر سپریم کورٹ نے منظوری دی تھی، ناکام ہو گئی
1996 میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت بدھ کے روز ناکام ہو گئی؛ ان کے وکلاء کے مطابق وہ ٹینیسی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔
امریکہ میں مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشنز کے باوجود ناکام
پائیک، جو اپنی ایک ہم جماعت کو تشدد کرکے قتل کرنے کے جرم میں 30 سال سے زائد عرصے سے سزائے موت کی قیدی ہے، بدھ کے روز اسے ہلاک کرنے کے لیے دیے گئے مہلک انجیکشنز کی ناکامی کے بعد ایک طبی مرکز منتقل کر دی گئی۔
امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔
کرسٹا پائیک ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت سے بچ گئیں
ان کے وکلاء کے مطابق، 50 سالہ سزائے موت کی قیدی پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں، اور انہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشن ناکام ہونے کے بعد ابتری کا شکار
مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی ہائی پروفائل سزائے موت اس وقت رک گئی جب مہلک انجیکشن کی دو خوراکیں اسے ہلاک کرنے میں ناکام رہیں۔