امریکہ میں مجرم کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عملدرآمد ناکام
ٹینیسی میں 50 سالہ کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، لیکن دو مہلک انجیکشنز کے بعد بھی خاتون ہوش میں رہیں۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
امریکی ریاست ٹینیسی میں 50 سالہ کرسٹا پائیک کو دی گئی سزائے موت پر عملدرآمد نہ ہو سکا، اخبار "کومرسانت" کے مطابق۔
اخبار کے مطابق، خاتون کو مہلک انجیکشن کے لیے مقررہ دوا کی دو خوراکیں دی گئیں، تاہم وہ ہوش میں رہیں۔ یہ ریاست کی تاریخ میں تقریباً 200 سال بعد کسی خاتون کی پہلی سزائے موت ہونی تھی۔
یہ واقعہ خاص طور پر اس وجہ سے توجہ کا مرکز بنا کیونکہ امریکہ میں خواتین کے خلاف سزائے موت پر عملدرآمد بہت کم ہوتا ہے۔ رپورٹ میں مجرم کے مستقبل یا ریاستی حکام کے مزید اقدامات کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین
امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت، جسے بالآخر سپریم کورٹ نے منظوری دی تھی، ناکام ہو گئی
1996 میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت بدھ کے روز ناکام ہو گئی؛ ان کے وکلاء کے مطابق وہ ٹینیسی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔
کرسٹا پائیک، جو امریکہ میں سزائے موت کی منتظر ہیں، دو مہلک انجیکشنز سے بچنے کے بعد ہسپتال میں داخل
ان کے وکلاء نے تصدیق کی کہ پائیک، جو اپنی ساتھی طالبہ کے قتل میں ملوث ہونے کے وقت 18 سال کی تھیں، ناکام سزائے موت کی کوشش کے بعد بھی زندہ ہیں۔
امریکہ میں مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشنز کے باوجود ناکام
پائیک، جو اپنی ایک ہم جماعت کو تشدد کرکے قتل کرنے کے جرم میں 30 سال سے زائد عرصے سے سزائے موت کی قیدی ہے، بدھ کے روز اسے ہلاک کرنے کے لیے دیے گئے مہلک انجیکشنز کی ناکامی کے بعد ایک طبی مرکز منتقل کر دی گئی۔
امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔
کرسٹا پائیک ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت سے بچ گئیں
ان کے وکلاء کے مطابق، 50 سالہ سزائے موت کی قیدی پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں، اور انہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔