پوتن کی مغرب کو تنبیہ: روس کالینن گراڈ کے تحفظ کے لیے 'ہر ہتھیار' استعمال کرے گا
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو کالینن گراڈ کے دفاع کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کرنے کو تیار ہے، جبکہ انہوں نے اصرار کیا کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دے رہا بلکہ صرف مغربی بیانات کا جواب دے رہا ہے۔ بی بی سی نے یہ خبر دی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

بی بی سی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس کالینن گراڈ خطے کے تحفظ کے لیے اپنے پاس موجود "ہر ہتھیار" استعمال کرنے کو تیار ہے۔ کالینن گراڈ روس کا ایک اکلاوتا علاقہ ہے جو پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع ہے۔
پوتن نے اپنے یہ بیانات مغربی رہنماؤں کے حالیہ اظہاریوں کے جواب کے طور پر پیش کیے اور اصرار کیا کہ روس "کسی کو دھمکی نہیں دے رہا"، بلکہ وہ صرف اس بات کا ردعمل دے رہا ہے جسے انہوں نے نیٹو رکن ممالک کی اشتعال انگیز بیان بازی قرار دیا۔
بالٹک سمندر پر واقع روس کا یہ بھاری فوجی اڈوں سے بھرا علاقہ کالینن گراڈ اپنے سٹریٹجک محل وقوع اور روسی فوجی اثاثہ جات کی موجودگی کی وجہ سے — جن میں رپورٹ کردہ میزائل صلاحیتیں بھی شامل ہیں — روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی کا باعث رہا ہے۔
یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب روس اور مغربی ممالک کے درمیان وسیع تناؤ کا ایک دور جاری ہے، جس کی بڑی وجہ یوکرین میں جنگ اور مشرقی یورپ میں نیٹو کے موقف پر اختلافات ہیں۔
نیٹو اور مغربی حکام نے پوتن کے تازہ ترین بیانات پر ابھی تک کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا ہے۔ اتحاد نے پہلے کالینن گراڈ میں اور اس کے ارد گرد روسی فوجی سرگرمیوں پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی، کیونکہ یہ علاقہ نیٹو رکن ممالک پولینڈ اور لتھوانیا کے قریب واقع ہے۔
پوتن کا یہ بیان مغربی حکومتوں کی جانب سے غالباً روسی بیان بازی کے اس نمونے کے حصے کے طور پر دیکھا جائے گا جس کا مقصد یورپی سلامتی انتظامات پر جاری اختلافات کے دوران اپنے عزم کا اظہار کرنا ہے۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

پوتن کا کہنا ہے کہ بالادست طاقتیں کثیرقطبی دنیا کی آمد کو تسلیم کر رہی ہیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ عالمی نظام ایک نئے، زیادہ مستحکم توازنِ طاقت کی طرف بڑھ رہا ہے، اور یہ تجویز کیا کہ بالادست ریاستیں کثیرقطبیت کی طرف تبدیلی کو قبول کرتی جا رہی ہیں۔

پوتن کا کہنا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ امریکہ سے تعلقات کا تناؤ 'ماضی کی بات' بن جائے
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ عشروں میں پیدا ہوا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلقات میں موجودہ کشیدگی حل ہو سکتی ہے، یہ بات ٹاس نیوز ایجنسی کے مطابق ہے۔

برطانیہ نے فضائی اڈے کے خلاف سازش میں ایران کے تعلق کے 'مضبوط اشارات' کا حوالہ دیا؛ تہران نے برطانوی سفیر کو طلب کیا
برطانوی پولیس نے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کے سلسلے میں ایرانی نژاد برطانوی شہری کو گرفتار کیا، ایران کی ملوثیت کے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے، جبکہ تہران نے الزامات کو رد کرتے ہوئے برطانوی سفیر کو طلب کر لیا۔

پوتن نے سوویت یونین کے انہدام کو کروڑوں لوگوں کے لیے المیہ قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ملک کی سوویت یونین کے بعد کی تبدیلی ایک جاری عمل ہے۔

روسی ڈرونز نے کیف کے دریائے دنیپر پر اہم پل کو نشانہ بنایا
شہر کے میئر کے مطابق، دو روسی ڈرونز نے کیف میں دریائے دنیپر پر واقع ایک بڑے پل کو نشانہ بنایا، جب ماسکو یوکرینی دارالحکومت پر حملے تیز کر رہا ہے۔
روسی افواج نے ایک دن میں دوسری بار پاولوہراد پر حملہ کیا، انتظامی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی
روسی افواج نے یوکرینی شہر پاولوہراد، دنیپروپیتروفسک کے علاقے میں، صبح سے اب تک دوسری بار حملہ کیا، جس سے ایک انتظامی عمارت میں آگ لگ گئی۔