پوتن نے سوویت یونین کے انہدام کو کروڑوں لوگوں کے لیے المیہ قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ملک کی سوویت یونین کے بعد کی تبدیلی ایک جاری عمل ہے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹاس کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیانات میں کہا کہ سوویت یونین کا 1991 میں انہدام کروڑوں لوگوں کے لیے ایک المیہ تھا۔
پوتن نے اس کے بعد سے روس کے راستے کو ایک پیچیدہ اور بنیادی تبدیلی کا عمل قرار دیا جو ان کے بقول آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے اپنے ان بیانات کے سلسلے میں کوئی نئی پالیسی نہیں بتائی، جن کی نوعیت ملک کی حالیہ تاریخ پر ایک وسیع تر غور و فکر کی تھی۔
سوویت یونین دسمبر 1991 میں تحلیل ہو کر پندرہ آزاد ریاستوں میں بٹ گیا اور تقریباً سات دہائیوں پر محیط مرکزی کمیونسٹ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس ٹوٹ پھوٹ نے مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی نقشہ بدل دیا اور یہ روسی سیاسی گفتگو میں ایک مستقل حوالہ نقطہ بنا ہوا ہے۔
پوتن اس سے قبل بھی سوویت یونین کے انہدام کو اسی انداز میں بیان کر چکے ہیں اور اسے 1991 کے بعد آنے والی اچانک معاشی اور سماجی تبدیلی سے متاثر ہونے والی آبادیوں کے لیے ایک بڑا ہنگامہ قرار دیتے ہیں۔ سوویت نظام کے ناقدین نے اسی دور کی مختلف تشریحات پیش کی ہیں اور اکثر 1991 کے بعد ملنے والی سیاسی آزادیوں کو اجاگر کیا ہے۔
ٹاس نے ان بیانات کے سیاق و سباق کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔
ذرائع
- Soviet Union’s collapse is tragedy for tens of millions — Putin — TASS (Russia)
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

غزہ: این جی او نے کیمپ کے بحرانی حالات کی اطلاع دی، اسرائیل کی جانب سے 'یلو لائن' کو آگے بڑھانے کا دعویٰ
ڈوئچے ویلے (انگریزی) کی رپورٹ میں دستیاب اہم تفصیلات پیش کی گئی ہیں، جبکہ دعوے اپنے ماخذ سے منسوب رہتے ہیں۔

پوتن کا کہنا ہے کہ بالادست طاقتیں کثیرقطبی دنیا کی آمد کو تسلیم کر رہی ہیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ عالمی نظام ایک نئے، زیادہ مستحکم توازنِ طاقت کی طرف بڑھ رہا ہے، اور یہ تجویز کیا کہ بالادست ریاستیں کثیرقطبیت کی طرف تبدیلی کو قبول کرتی جا رہی ہیں۔

پوتن کی مغرب کو تنبیہ: روس کالینن گراڈ کے تحفظ کے لیے 'ہر ہتھیار' استعمال کرے گا
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو کالینن گراڈ کے دفاع کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کرنے کو تیار ہے، جبکہ انہوں نے اصرار کیا کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دے رہا بلکہ صرف مغربی بیانات کا جواب دے رہا ہے۔ بی بی سی نے یہ خبر دی۔

پوتن کا کہنا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ امریکہ سے تعلقات کا تناؤ 'ماضی کی بات' بن جائے
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ عشروں میں پیدا ہوا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلقات میں موجودہ کشیدگی حل ہو سکتی ہے، یہ بات ٹاس نیوز ایجنسی کے مطابق ہے۔

روسی ڈرونز نے کیف کے دریائے دنیپر پر اہم پل کو نشانہ بنایا
شہر کے میئر کے مطابق، دو روسی ڈرونز نے کیف میں دریائے دنیپر پر واقع ایک بڑے پل کو نشانہ بنایا، جب ماسکو یوکرینی دارالحکومت پر حملے تیز کر رہا ہے۔
روسی افواج نے ایک دن میں دوسری بار پاولوہراد پر حملہ کیا، انتظامی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی
روسی افواج نے یوکرینی شہر پاولوہراد، دنیپروپیتروفسک کے علاقے میں، صبح سے اب تک دوسری بار حملہ کیا، جس سے ایک انتظامی عمارت میں آگ لگ گئی۔