پوتن نے ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مرحوم سیکرٹری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرسکتے تھے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا اور کہا کہ ایرانی عہدیدار نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
پوتن نے کہا کہ لاریجانی ایسے شخص تھے جو معاہدوں تک پہنچ سکتے تھے، اور انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ان کی شمولیت مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازعے کو ختم کرنے کی سمت پیش رفت میں مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔
یہ ریمارکس خطے میں کشیدگی کے سفارتی اثرات کے ساتھ ماسکو کی مسلسل مصروفیت کی عکاسی کرتے ہیں، کیوں کہ روس نے اپنے آپ کو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں ایک فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
لاریجانی ایران کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے، قومی سلامتی کی پالیسی سے متعلق معاملات کی نگرانی کرتے تھے، اور اس حیثیت میں بعض لوگ انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھتے تھے جو اعلیٰ داؤ کے مذاکرات میں پس پردہ رابطہ کاری میں سہولت دے سکتے تھے۔
پوتن کے تبصرے روسی اشاعتی ادارے Kommersant نے شائع کیے۔ روسی صدر کے ریمارکس کے سلسلے میں نہ کسی ایرانی اور نہ ہی کسی امریکی عہدیدار کا براہِ راست حوالہ دیا گیا۔
ذرائع
- Путин назвал убийство Али Лариджани большой ошибкой — Kommersant
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین
رپورٹ: ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکہ مشرق وسطیٰ میں تیسرا کیریئر اسٹرائیک گروپ بھیجے گا
پینٹاگون کی اس تعیناتی سے خطے میں 10,000 تک فوجی اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

پوتن کا کہنا ہے کہ اگر کالینن گراڈ پر حملہ ہوا تو روس جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے
ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ اگر کالینن گراڈ خطے پر براہ راست حملہ ہوا تو روس جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے یوکرین کے ساتھ طویل فاصلے کے حملوں کو باہمی طور پر روکنے کی تجویز مسترد کر دی، سکائی نیوز عربیہ کے مطابق۔

پوتن کا کہنا ہے کہ بالادست طاقتیں کثیرقطبی دنیا کی آمد کو تسلیم کر رہی ہیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ عالمی نظام ایک نئے، زیادہ مستحکم توازنِ طاقت کی طرف بڑھ رہا ہے، اور یہ تجویز کیا کہ بالادست ریاستیں کثیرقطبیت کی طرف تبدیلی کو قبول کرتی جا رہی ہیں۔

پوتن کی مغرب کو تنبیہ: روس کالینن گراڈ کے تحفظ کے لیے 'ہر ہتھیار' استعمال کرے گا
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو کالینن گراڈ کے دفاع کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کرنے کو تیار ہے، جبکہ انہوں نے اصرار کیا کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دے رہا بلکہ صرف مغربی بیانات کا جواب دے رہا ہے۔ بی بی سی نے یہ خبر دی۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ کشادگی جنگ ختم کرنے کی امریکی ضمانتوں پر منحصر ہے
تہران نے ایک سات روزہ اقدام تجویز کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا مذاکرات بحال کرنے سے پہلے لڑائی کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی رہائی اور ناکہ بندی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، یہ خبر اناطولو ایجنسی نے دی۔

پوتن کا کہنا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ امریکہ سے تعلقات کا تناؤ 'ماضی کی بات' بن جائے
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ عشروں میں پیدا ہوا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلقات میں موجودہ کشیدگی حل ہو سکتی ہے، یہ بات ٹاس نیوز ایجنسی کے مطابق ہے۔