روسی جنگی نامہ نگار نے سربوں پر نیٹو کے حملوں کو یوکرین تنازع کی «تیاری» قرار دیا
TASS کے مطابق، دانیجل سیمک نے دلیل دی کہ روسیوں کو تاریخ کے سبق پر توجہ دینی چاہیے اور نیٹو اور یورپی یونین کے دباؤ کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

ایک جنگی نامہ نگار نے سربوں پر نیٹو کے ماضی کے حملوں کو یوکرین میں تنازع کی «تیاری» کی ایک شکل قرار دیا، روسی سرکاری خبر رساں ادارے TASS کے مطابق۔
TASS کی رپورٹ کے مطابق دانیجل سیمک نے کہا کہ روسیوں کو تاریخ کے سبق یاد رکھنے چاہییں اور نیٹو اور یورپی یونین کو اپنے اقدامات کا حکم دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
یہ تبصرے کسی حکومت یا فوجی ادارے کے سرکاری بیان کی بجائے سیمک کی ذاتی تشخیص کے طور پر پیش کیے گئے، اور TASS نے اس خصوصیت کی تصدیق کرنے والے آزاد ذرائع کا حوالہ نہیں دیا۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

نیٹو کے ساتھ کشیدگی بڑھنے پر روس کی کالینن گراڈ کے معاملے میں جوہری آپشن کی وارننگ
ماسکو نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ اگر نیٹو کالینن گراڈ کے خطے کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرے تو جوہری ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اتحاد اصرار کرتا ہے کہ اس کی سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور اس دھمکی کو مسترد کرتا ہے۔

یوکرینی سفارتکار کا کہنا ہے کہ جنگ سے متعلق نقصانات 600 ارب ڈالر تک پہنچ گئے
ہنگری میں یوکرین کے سفیر نے کہا کہ روس کے ساتھ تنازعے سے ہونے والے نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں۔
زیلنسکی کا دعویٰ: روس نے راتوں رات یوکرین پر 100 سے زائد حملہ آور ڈرونز داغے
یوکرینی صدر کے مطابق تقریباً نصف ڈرونز جیٹ انجن والے تھے۔
سمارا میں دھماکوں کے بعد ٹرانس نفٹ مرکز میں آگ بھڑک اٹھی؛ وولگوگراڈ ریفائنری اور کیمیکل پلانٹ کے قریب بھی آگ کی اطلاع
ٹرانس نفٹ سسٹم کا حصہ اور یورپ کا سب سے بڑا قرار دیا جانے والا روس کا سمارا ٹینک فارم مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جبکہ وولگوگراڈ کے صنعتی مقامات کے قریب الگ آگ لگ گئی۔
روسی ڈرونز کا کییف کے جنوبی پل پر دوبارہ حملہ، دنیپر کے پار راستے محدود
روسی افواج نے کییف کے دریائے دنیپر پر واقع جنوبی پل کو چند گھنٹوں کے دوران تین مرتبہ نشانہ بنایا، جس کے باعث دریا کے پار پلوں پر ٹریفک کو محدود کر دیا گیا۔
پوتن نے ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مرحوم سیکرٹری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرسکتے تھے۔