ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکا مشرق وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار بحری جنگی بیڑہ تعینات کرے گا
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن خطے میں اپنی بحری موجودگی مضبوط کر رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

رپورٹس کے مطابق امریکا مشرق وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ (کیریئر اسٹرائیک گروپ) بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ کہا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے اختتام کے بعد ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ اضافی تعیناتی خطے میں امریکی عسکری موجودگی کو مزید وسعت دے گی، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران وہاں پہلے سے تعینات بحری افواج میں اضافہ کرے گی۔
یہ اطلاع شدہ منصوبے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب بحری نقل و حمل کی سلامتی پر جاری تنازعات بھی شامل ہیں۔ نہ ہی پینٹاگون اور نہ ہی وائٹ ہاؤس نے طیارہ بردار بیڑے کی تعیناتی کے مخصوص شیڈول کے بارے میں تفصیلی عوامی تصدیق جاری کی ہے۔
صورتحال تاحال غیر واضح ہے، اور انتظامیہ کا حتمی لائحہ عمل جزوی طور پر وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے جڑے سیاسی عوامل پر منحصر ہو سکتا ہے۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے
رپورٹ کے مطابق تعیناتی میں تہران پر دباؤ بڑھانے کے سلسلے میں دسیوں ہزار فوجی، ایف-35 طیارے اور میرینز شامل ہیں۔
امریکہ کا مشرق وسطیٰ کی جانب تیسرا طیارہ بردار جنگی بحری بیڑہ روانہ، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ مشرق وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار جنگی بحری بیڑہ اور میرین کور کے مزید بحری جہاز تعینات کر رہا ہے، جس سے خطے میں فوجیوں کی تعداد میں 9 ہزار سے 10 ہزار تک اضافہ ہوگا۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ کشادگی جنگ ختم کرنے کی امریکی ضمانتوں پر منحصر ہے
تہران نے ایک سات روزہ اقدام تجویز کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا مذاکرات بحال کرنے سے پہلے لڑائی کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی رہائی اور ناکہ بندی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، یہ خبر اناطولو ایجنسی نے دی۔
پوتن نے ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مرحوم سیکرٹری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرسکتے تھے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ یورپ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کا فیصلہ "کر چکا ہوگا"
امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ یورپ میں نئی امریکی فوجی موجودگی قائم کرنے کا فیصلہ شاید پہلے ہی ہو چکا ہے۔

ایران جنگ کے دوران امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں 2000 میرینز تعینات کیے، آبنائے ہرمز میں ٹینکر پر حملہ
امریکہ نے ایران کے گرد ایک وسیع تر فوجی نفری کے حصے کے طور پر روزویلٹ اسٹرائیک گروپ اور اضافی میرینز خطے میں بھیجے ہیں۔