روسی حملوں نے یوکرین کے بجلی گرڈ کو تباہ کر دیا، فضائی خوف اور ادیس ابابا دھماکے نے ایک ہنگامہ خیز دن کو مزید سنگین بنا دیا
بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں نے سردیوں سے پہلے یوکرین بھر میں بجلی منقطع کر دی، جبکہ اسرائیلی حکام نے فلائی دبئی کی ایک پرواز میں فضا میں چاقو سے حملے کی تفصیل بیان کی اور ایتھوپیا کے فوجی ہیڈکوارٹر میں دھماکے کی اطلاع ملی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

یوکرینی حکام کے مطابق روس کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک لہر نے یوکرین کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے رات بھر کییف اور کم از کم تین دیگر علاقوں میں ہنگامی بجلی کی بندش کا باعث بنی، جسے کییف نے ملک کے بجلی گرڈ کے خلاف متوقع سرمائی مہم کی پہلی کارروائی قرار دیا۔
یوکرینی حکام نے بتایا کہ حملوں میں ایک بچے سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کچھ رپورٹوں میں خاص طور پر کییف کے علاقے میں تین ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا ہے، اور ہلاکتوں کی تعداد کا جائزہ تاحال جاری ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق ایک روسی ڈرون نے کییف کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا اور شہر کے مرکزی پل کو بھی نقصان پہنچایا، جس سے نقل و حمل متاثر ہوئی۔
ان حملوں کے اثرات سرحد پار بھی محسوس کیے گئے، حکام کے مطابق پولینڈ کے حکام نے لوبلن اور رزیشوف ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں، جو بعد میں دوبارہ بحال ہو گئیں۔ یوکرینی حکام نے ان حملوں کو روس کی ایک معمول کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جو پچھلی سردیوں میں بھی دیکھی گئی تھی، جس میں درجہ حرارت گرنے کے ساتھ ہیٹنگ، بجلی اور پانی کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم مسکو نے رپورٹس کے مطابق رات کے حملوں پر اپنا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اس کے علاوہ، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز فضا میں ایک حفاظتی واقعے کا شکار ہوئی، جب مزعومہ طور پر کو پائلٹ نے کیپٹن پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کو گرانے کی کوشش کی۔ نیتن یاہو کے بیان کے مطابق مسافروں نے مداخلت کرکے صورتحال پر دوبارہ قابو حاصل کیا، جس کے بعد دیگر پائلٹوں نے طیارے کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا۔ اس واقعے کی تفصیلات کی فلائی دبئی، سعودی حکام یا دیگر عہدیداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
ایک تیسرے واقعے میں، بدھ کی شام ادیس ابابا میں ایتھوپیا کے فوجی ہیڈکوارٹر میں دھماکے کی اطلاع ملی، جس کی بنیاد ایک سفارتی ذریعے اور رپورٹس میں حوالہ دیے گئے ایک مقامی رہائشی پر ہے۔ ایتھوپیا کے حکام نے اس رپورٹ کی تیاری تک واقعے کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، جس کی وجہ سے دھماکے کی وجہ اور ممکنہ ہلاکتیں غیر مصدقہ ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ تین واقعات ایک ایسے دن کی نشاندہی کرتے ہیں جو متعدد خطوں میں اہم بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل اور سلامتی میں خلل سے نمایاں رہا، جبکہ یوکرینی حکام اپنے بقول سردیوں کے مہینوں میں بجلی گرڈ کے خلاف ایک طویل روسی مہم کے لیے تیار ہو رہے ہیں، اور فضائی واقعے اور ادیس ابابا دھماکے سے متعلق سوالات تاحال غیر حل شدہ ہیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے
رپورٹ کے مطابق تعیناتی میں تہران پر دباؤ بڑھانے کے سلسلے میں دسیوں ہزار فوجی، ایف-35 طیارے اور میرینز شامل ہیں۔
حوثیوں کا دعویٰ: سعودی عرب نے صنعاء اور یمن کے تین صوبوں پر حملہ کیا
یمن کی حوثی تحریک کا کہنا ہے کہ سعودی افواج نے دارالحکومت اور کئی صوبوں پر حملے کیے، جبکہ یمنی فوج نے تعز میں حوثی مواقع پر درجنوں حملوں کی اطلاع دی۔
سعودی عرب نے مکہ کی مسجد الحرام میں خودکش حملہ آور کی اطلاعات کو مسترد کر دیا
حکام نے بمباری کی کوشش کے گردش کرتے دعووں کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک شخص کو راہگیروں کو ہراساں کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے پر گرفتار کیا گیا۔
پوتن نے ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مرحوم سیکرٹری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرسکتے تھے۔
مصر نے جوابی کارروائی میں ایتھیوپیائی سفارت کار کو ملک بدر کیا
ادیس ابابا کی جانب سے مصری سفارت کار کو نکالے جانے کے بعد ایتھیوپیائی سفارت خانے کے ایک مشیر کو قاہرہ چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔

پوتن نے کہا کہ روس کا حملہ تیز ہو رہا ہے، اقتصادی پائیداری کا دفاع کیا
روسی صدر نے 'خصوصی فوجی آپریشن' زون میں آپریشنز کی رفتار کے بارے میں بات کی اور جسے انہوں نے یورپی جارحیت قرار دیا اس پر تنقید کی۔