ایران اور امریکا کے درمیان نیوکلیئر سے متعلقہ بات چیت جاری رہنے کے دوران الفاظ کی شدت بڑھ رہی ہے
صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران کو "تباہ کرنے" کی دھمکی اور پھر سفارت کاری پر تبصروں کے بعد، تہران نے جواب دینے کی انتباہ دی ہے، جو جاری بات چیت کے ساتھ تیز الفاظ کا تبادلہ اجاگر کرتا ہے
امریکہ اور ایران کے درمیان بیانات میں شدت آ گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات جاری ہیں، صدر ٹرمپ نے ایران کو "نابود" کرنے کی دھمکی دی ہے اور سفارت کاری میں پیش رفت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ مخلوط پیغام رسانی نے تہران کو خبردار کرنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی خطرے کا جواب دے گا۔
یہ تبادلہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے ساتھ ہونے والے غیر مستحکم لہجے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں دونوں فریق متنازعہ زبان اور مذاکرات کے لیے کھلے پن کے اظہار کے درمیان باری باری آتے ہیں۔ ایرانی حکام نے امریکی یا اتحادی فوجی کارروائی کے ممکنہ ردعمل کی وضاحت میں اسی طرح کی سخت زبان استعمال کی ہے، جس سے سفارتی راستے کے ساتھ ساتھ بیانیہ میں اضافہ ہوا ہے۔
سفارت کاری اور خطرات کا متوازی طور پر چلنا
سخت گیر دھمکیوں اور دعویٰ کردہ سفارتی پیش رفت کا موازنہ امریکہ-ایران تعلقات کے ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مذاکرات کے ادوار کے ساتھ اکثر دونوں حکومتوں کی جانب سے عوامی طاقت کے مظاہرے ہوتے رہے ہیں، جو جزوی طور پر ملکی اور علاقائی سامعین کے لیے ہوتے ہیں۔
دستیاب رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات میں کون سی مخصوص پیش رفت ٹرمپ کے تبصروں کی وجہ بنیں، یا ایران نے نئے دھمکیوں کے جواب میں کون سے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، اگر کوئی ہوں، ظاہر کیا ہے۔
یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی طویل تاریخ میں اضافہ کرتا ہے، جن کے تعلقات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور پابندیوں کے تنازعات سے متاثر ہوئے ہیں، حالانکہ دونوں فریق وقتا فوقتا براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات میں ملوث رہے ہیں۔
ذرائع
- ‘Annihilate’ vs ‘crushing’ attacks: Why Iran, US up rhetoric amid talks — Al Jazeera — All
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیویارک میں بالواسطہ مذاکرات میں ایران کی تازہ ترین تجویز مسترد کر دی
ایک امریکی اہلکار نے ثالثوں کے ذریعے جاری بالواسطہ مذاکرات کو "مثبت اور تعمیری" قرار دیا، جن میں جوہری معاملات بھی زیر بحث موضوعات میں شامل ہیں۔
ٹرمپ کا ایران کی ہفتے بھر میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد
امریکہ نے قطر کے ذریعے ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات روزہ روڈ میپ مسترد کر دی، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

تہران کو ہرمز آبنائے دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کی تجویز پر امریکی جواب کا انتظار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کیے جانے کی اطلاعات کے بعد ایران واشنگٹن سے ہرمز آبنائے کی تجویز پر سرکاری جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

پیزشکیان: ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن دھونس اور جبر کبھی قبول نہیں کرے گا
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران مسائل حل کرنے کے لیے مکالمے کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت یا جبر کے سامنے نہیں جھکے گا۔

ٹرمپ نے ایران کی مشروط جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی: وال سٹریٹ جرنل، سعودی اتحاد نے میزائل حملے ناکام بنا دیے
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ کے ایران پر امریکی بمباری دوبارہ شروع کرنے کا امکان ہے، جبکہ سعودی حمایت یافتہ افواج نے میزائل حملے ناکام بنا دیے۔

ایران اور افغانستان چابہار بندرگاہ کے ذریعے ٹرانزٹ تعاون بڑھانے کے خواہاں
کابل میں ایران کے قائم مقام سفیر کا کہنا ہے کہ تہران اور افغانستان نقل و حمل اور ٹرانزٹ کے تعلقات وسیع کرنے پر کام کر رہے ہیں، اور چابہار بندرگاہ کو دونوں ممالک کے درمیان ایک کلیدی ربط کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔