پیزشکیان: ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن دھونس اور جبر کبھی قبول نہیں کرے گا
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران مسائل حل کرنے کے لیے مکالمے کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت یا جبر کے سامنے نہیں جھکے گا۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران زیرالتواء مسائل حل کرنے کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے کا خواہاں ہے، لیکن وہ دھونس یا اپنے خلاف طاقت کے استعمال کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔
پیزشکیان نے کہا کہ ایران خود کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں ہونے دے گا، اور انہوں نے اپنے ملک کے موقف کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت کے لیے کھلا ہے جبکہ دباؤ کے حربوں کو مسترد کرتا ہے۔
یہ ریمارکس علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں ایران کے موقف سے متعلق جاری تناؤ کے درمیان آئے ہیں۔
رپورٹ کیے گئے بیانات میں کسی مخصوص تجاویز یا مذاکراتی شراکت داروں کے بارے میں مزید تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
ذرائع
- Iran ready for talks but never accept bullying, coercion — Mehr News (Iran)
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

تہران کو ہرمز آبنائے دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کی تجویز پر امریکی جواب کا انتظار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کیے جانے کی اطلاعات کے بعد ایران واشنگٹن سے ہرمز آبنائے کی تجویز پر سرکاری جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

ایران اور افغانستان چابہار بندرگاہ کے ذریعے ٹرانزٹ تعاون بڑھانے کے خواہاں
کابل میں ایران کے قائم مقام سفیر کا کہنا ہے کہ تہران اور افغانستان نقل و حمل اور ٹرانزٹ کے تعلقات وسیع کرنے پر کام کر رہے ہیں، اور چابہار بندرگاہ کو دونوں ممالک کے درمیان ایک کلیدی ربط کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

عراقی مسلح گروپ نے بغداد سے ایران پر 'ناجائز محاصرے' کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا
ایران کی حمایت یافتہ عراقی گروپ کتائب سید الشہداء کے سیکرٹری جنرل نے عراق کی حکومت اور پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ ایران کے بارے میں امریکی دباؤ کے آگے نہ جھکیں۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی سے متعلق ایران کی پیشکش مسترد کر دی
امریکی صدر نے تہران کے ساتھ ممکنہ "پیش رفت" کا ذکر کرتے ہوئے آبنائے کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی کو مشروط کرنے والی ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا۔

تجزیہ کار: دائمی جنگ سے بچنے کے لیے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو تعلقات 'ازسرنو شروع' کرنے ہوں گے
چیتھم ہاؤس کے فیلو یوسی میکلبرگ کا استدلال ہے کہ نیتن یاہو دور کے بعد کی منتقلی اسرائیل-فلسطین تعلقات پر ازسرنو غور کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی مباحثوں کا پانچواں دن: سعودی عرب، یو اے ای، عمان اور تیونس مقررین کی فہرست میں
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی عمومی بحث لگاتار پانچویں روز بھی جاری رہی، جس میں متعدد عرب ممالک نے شرکت کی۔