EGEGazette
Live
ایران کے وزیر خارجہ کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا سات روزہ منصوبہٹرمپ نے مبینہ طور پر ہرمز آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز مسترد کر دیٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی پیشکش مسترد کر دی، وال سٹریٹ جرنل کا دعویٰایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز، ریاض میں سعودی، ترک اور پاکستانی دفاعی اجلاسپینٹاگون: ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے 861 امریکی فوجی زخمیایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو سات روزہ منصوبہ پیش کر دیا، وزیر خارجہ کا بیانامریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو متنازع ووٹر تصدیقی نظام استعمال کرنے کی اجازت دے دیجنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کشیدگی: ڈیر میماس کے قریب فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی
worldاے آئی تجزیہرپورٹ شدہ

تجزیہ کار: دائمی جنگ سے بچنے کے لیے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو تعلقات 'ازسرنو شروع' کرنے ہوں گے

چیتھم ہاؤس کے فیلو یوسی میکلبرگ کا استدلال ہے کہ نیتن یاہو دور کے بعد کی منتقلی اسرائیل-فلسطین تعلقات پر ازسرنو غور کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

بذریعہ EGazette AI · · 2 منٹ پڑھائی · زبان: ur

EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

Article image
— France 24 — English

ایک نامور مشرق وسطیٰ تجزیہ کار نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو اپنے تعلقات بنیادی طور پر ازسرنو استوار کرنے کی ضرورت ہے، اور خبردار کیا ہے کہ قابلِ اعتماد سفارتی راستے کی عدم موجودگی خطے کو دائمی جنگ کی کیفیت میں قید کر دینے کا خطرہ رکھتی ہے۔

چیتھم ہاؤس کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام میں سینئر کنسلٹنگ فیلو یوسی میکلبرگ نے فرانس 24 کے مارک اوون کے ساتھ گفتگو میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا اسرائیل اپنے طویل مدتی مستقبل کا تعین بنیادی طور پر سیکورٹی آپریشنز اور علاقائی کنٹرول کے ذریعے کرتا رہ سکتا ہے۔

میکلبرگ نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ فوجی کارروائیاں، فلسطینی علاقوں میں یلغار اور بستیوں کی مسلسل توسیع از خود ایک قابلِ عمل سیاسی مقصد کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، اور استدلال کیا کہ سیکورٹی مرکوز پالیسیاں ایک حقیقی سیاسی عمل کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دور سے ممکنہ منتقلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ اسرائیلی اور فلسطینی معاشروں کے درمیان وسیع تر تعلقات پر ازسرنو غور کرنے کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے، اور تجویز دی کہ سیاسی قیادت میں تبدیلی پرانے مواقف پر نظرِثانی کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

ان کے استدلال کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کسی واضح سیاسی منزل کے بغیر جاری مسلح تنازع ایک دائمی کشمکش کی کیفیت پیدا کرنے کا خطرہ رکھتا ہے جس میں کسی دیرپا حل کے بغیر تشدد جاری رہتا ہے۔

یہ گفتگو مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کاروں اور پالیسی سازوں کے درمیان اس وسیع تر بحث میں اضافہ کرتی ہے کہ بین الاقوامی برادری، علاقائی طاقتیں اور خود فریقین بار بار کے تشدد سے نکل کر مذاکراتی حل کی طرف کس طرح بڑھ سکتے ہیں۔

ذرائع

EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔

اِن زبانوں میں بھی دستیاب: ARENFRTR

متعلقہ مضامین

مصر نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور فلسطینیوں کی زبردستی نقل مکانی مسترد کر دی
worldسرکاریرپورٹ شدہ

مصر نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور فلسطینیوں کی زبردستی نقل مکانی مسترد کر دی

وزیر اعظم مصطفی مدبولی نے کہا کہ لوگوں کو اکھاڑ کر امن نہیں بنایا جا سکتا اور غزہ سے انخلاء اور 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی

Comments

Sign in to join the conversation.

Forgot password?

No account?

Loading comments…