تجزیہ کار: دائمی جنگ سے بچنے کے لیے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو تعلقات 'ازسرنو شروع' کرنے ہوں گے
چیتھم ہاؤس کے فیلو یوسی میکلبرگ کا استدلال ہے کہ نیتن یاہو دور کے بعد کی منتقلی اسرائیل-فلسطین تعلقات پر ازسرنو غور کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

ایک نامور مشرق وسطیٰ تجزیہ کار نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو اپنے تعلقات بنیادی طور پر ازسرنو استوار کرنے کی ضرورت ہے، اور خبردار کیا ہے کہ قابلِ اعتماد سفارتی راستے کی عدم موجودگی خطے کو دائمی جنگ کی کیفیت میں قید کر دینے کا خطرہ رکھتی ہے۔
چیتھم ہاؤس کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام میں سینئر کنسلٹنگ فیلو یوسی میکلبرگ نے فرانس 24 کے مارک اوون کے ساتھ گفتگو میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا اسرائیل اپنے طویل مدتی مستقبل کا تعین بنیادی طور پر سیکورٹی آپریشنز اور علاقائی کنٹرول کے ذریعے کرتا رہ سکتا ہے۔
میکلبرگ نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ فوجی کارروائیاں، فلسطینی علاقوں میں یلغار اور بستیوں کی مسلسل توسیع از خود ایک قابلِ عمل سیاسی مقصد کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، اور استدلال کیا کہ سیکورٹی مرکوز پالیسیاں ایک حقیقی سیاسی عمل کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔
انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دور سے ممکنہ منتقلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ اسرائیلی اور فلسطینی معاشروں کے درمیان وسیع تر تعلقات پر ازسرنو غور کرنے کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے، اور تجویز دی کہ سیاسی قیادت میں تبدیلی پرانے مواقف پر نظرِثانی کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
ان کے استدلال کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کسی واضح سیاسی منزل کے بغیر جاری مسلح تنازع ایک دائمی کشمکش کی کیفیت پیدا کرنے کا خطرہ رکھتا ہے جس میں کسی دیرپا حل کے بغیر تشدد جاری رہتا ہے۔
یہ گفتگو مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کاروں اور پالیسی سازوں کے درمیان اس وسیع تر بحث میں اضافہ کرتی ہے کہ بین الاقوامی برادری، علاقائی طاقتیں اور خود فریقین بار بار کے تشدد سے نکل کر مذاکراتی حل کی طرف کس طرح بڑھ سکتے ہیں۔
ذرائع
- Israelis, Palestinians must 'reboot relations': Absence of diplomatic route means 'perpetual war' — France 24 — English
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
متعلقہ مضامین
مصر نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور فلسطینیوں کی زبردستی نقل مکانی مسترد کر دی
وزیر اعظم مصطفی مدبولی نے کہا کہ لوگوں کو اکھاڑ کر امن نہیں بنایا جا سکتا اور غزہ سے انخلاء اور 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی مسماری کے خدشے میں رضاکار 40 سالہ فلسطینی فارم کو خود مسمار کر رہے ہیں
500 سے زائد رضاکاروں نے متوقع مسماری کے حکم سے پہلے تین دنوں میں فارم کی عمارتیں توڑ دیں۔
قانون ساز کا کہنا ہے کہ فلسطینی ووٹ اسرائیلی انتخابات میں 'گیم چینجر' ثابت ہو سکتا ہے
کنیسٹ رکن عوفر کاسف کہتے ہیں کہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ عرب اور فلسطینی شہریوں کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

پزشکیان اور گوتیریش نے علاقائی امن کے لیے سفارت کاری کو راستہ قرار دیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی۔

ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حاشیے پر مذاکرات کیے
عباس عراقچی اور سید بدر البوسعیدی نے 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران نیویارک میں ملاقات کی۔

پیزشکیان: ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن 'دھونس یا جبر' قبول نہیں کرے گا
ایران کے صدر نے دہرایا کہ تہران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور وہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے لیے پرعزم ہے۔
Comments
Loading comments…