امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو متنازع ووٹر تصدیقی نظام استعمال کرنے کی اجازت دے دی
عدالت کے فیصلے کے تحت نومبر کے انتخابات سے قبل ووٹرز کی شہریت کی تصدیق کے لیے بنائے گئے ایک نئے وفاقی ڈیٹا بیس کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ووٹرز کے حق رائے دہی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔
فرانس 24 کے مطابق، امریکی سپریم کورٹ نے جمعے کے روز فیصلہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نومبر کے انتخابات سے قبل ووٹرز کی شہریت کی تصدیق کے لیے بنائے گئے ایک نئے وفاقی ڈیٹا بیس کا استعمال جاری رکھ سکتی ہے۔
انتظامیہ نے اس ڈیٹا بیس کو ایک ایسے آلے کے طور پر پیش کیا ہے جو بظاہر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ افراد امریکی شہری ہیں، اور حکام نے اسے آئندہ انتخابات کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے نومبر کے انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی اس نظام کے استعمال کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں بیان کردہ اس اقدام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے، جسے وہ امریکی انتخابات میں انتہائی نایاب قرار دیتے ہیں۔ ان ناقدین کا مؤقف ہے کہ تصدیقی نظام دراصل ایسی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کرنے کے امکان رکھنے والے ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کر سکتی ہیں۔
ایک متنازع قانونی اور سیاسی کشمکش
رپورٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے مخصوص قانونی استدلال کی تفصیلات نہیں دی گئیں، اور نہ ہی ججوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم یا کسی اختلافی رائے کے اجراء کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اس میں ان مدعیان کے نام بھی نہیں بتائے گئے جنہوں نے ابتدائی طور پر ڈیٹا بیس کے استعمال کو چیلنج کیا تھا، اور نہ ہی نچلی عدالتوں کے ان فیصلوں کا ذکر ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے سامنے آئے تھے۔
ووٹر شناخت اور شہریت کی تصدیق سے متعلق اقدامات پر تنازعات امریکی سیاست میں ایک بار بار سامنے آنے والا نکتہ اختلاف رہے ہیں، حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسے نظام دھوکہ دہی کے خلاف ضروری تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے کے دستاویزی واقعات انتہائی نایاب ہیں اور ایسے اقدامات اہل ووٹرز کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں، جن میں قدرتی طور پر شہریت حاصل کرنے والے افراد اور دیگر وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ایسے نظاموں کی جانب سے غلطی سے نشاندہی کیے جانے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ نومبر کے انتخابات سے قبل وفاقی ڈیٹا بیس کے استعمال کی اجازت دیتا ہے، تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نظام کے نفاذ یا اس کے آپریشن کے خلاف مزید کوئی قانونی چیلنجز پیش کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
ذرائع
- US Supreme Court allows Trump to use controversial voter 'verification' system — France 24 — English
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
متعلقہ مضامین

نیو جرسی کی گورنر نے اخلاقی تحقیقات میں خلاف ورزیوں کے انکشاف کے بعد لیفٹیننٹ گورنر سے استعفے کا مطالبہ کیا
گورنر میکی شیریل نے کہا کہ ڈیل کالڈویل کو جمعے تک استعفیٰ دے دینا چاہیے، تحقیق میں معلوم ہوا کہ انہوں نے عملے اور تحائف سے متعلق بار بار اخلاقی خلاف ورزیاں کیں۔

مراکش کے انتخابات کے ابتدائی نتائج: اصالة والمعاصرة پارٹی کی نمایاں پیشقدمی
مراکش کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں اصالة والمعاصرة پارٹی آگے نکل آئی، جبکہ الوطنی الاحرار اتحاد اور استقلال پارٹی پیچھے رہ گئی اور عدالت و ترقی پارٹی مضبوط واپسی کرتی نظر آئی۔

ٹرمپ نے اعلیٰ سطحی امریکی-چینی سربراہ اجلاس کے لیے شی جن پنگ کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا
دونوں رہنما واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان گہری رقابت کے باوجود علامتی پیغام اور مستحکم تعلقات پر زور دینے والے سرکاری سربراہ اجلاس میں ملے۔

وینیزویلا کی ڈیلسی روڈریگیز نے اقوام متحدہ میں انتخابات کا وعدہ کیا، تاریخ نہ بتائی
وینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ ملک مکمل جمہوریت کی طرف گامزن ہے اور اس نے اپوزیشن کے حلقوں کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں، البتہ انہوں نے انتخابات کی کوئی تاریخ نہیں دی۔

آر ایف کے جونیئر نے گذشتہ سال میں ایم اے ایچ اے سے منسلک حلیفوں سے کتابوں کی پیشگی رقم میں 4 ملین ڈالر وصول کیے
ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکی صحت کے سیکریٹری نے یہ رقم حکومتی خدمت کے دوران ایسی کتابوں سے متعلق لکھنے، ترمیم یا اشتہاری کام نہ کرنے کی 2024 کی اخلاقیات کی پابندی کے باوجود وصول کی۔

OSCE کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مڈٹرم الیکشنز میں مبصر بننے کی دعوت نہ پانے سے "مایوس" ہے
2002 کے بعد سے پہلی بار، OSCE کی الیکشن مانیٹرنگ کی شاخ امریکی ووٹنگ میں مبصرین نہیں بھیجے گی، کیونکہ واشنگٹن نے 2026 کے مڈٹرمز کے لیے دعوت نہیں دی
Comments
Loading comments…