EGEGazette
Live
ایران کی واشنگٹن کو آبنائے ہرمز سات دن میں دوبارہ کھولنے کی پیشکشایران کے وزیر خارجہ کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا سات روزہ منصوبہٹرمپ نے مبینہ طور پر ہرمز آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز مسترد کر دیٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی پیشکش مسترد کر دی، وال سٹریٹ جرنل کا دعویٰٹرمپ نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ایرانی منصوبہ مسترد کر دیاایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز، ریاض میں سعودی، ترک اور پاکستانی دفاعی اجلاسپینٹاگون: ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے 861 امریکی فوجی زخمیایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو سات روزہ منصوبہ پیش کر دیا، وزیر خارجہ کا بیانامریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو متنازع ووٹر تصدیقی نظام استعمال کرنے کی اجازت دے دیبینکاک کے تمام 50 اضلاع شدید سیلاب کے باعث آفت زدہ علاقہ قرارایتھوپیا کی افواج اور باغی گروپوں کے درمیان متعدد محاذوں پر شدید لڑائی کی اطلاعات
worldسرکاریاے آئی تجزیہرپورٹ شدہ

ایران اور افغانستان چابہار بندرگاہ کے ذریعے ٹرانزٹ تعاون بڑھانے کے خواہاں

کابل میں ایران کے قائم مقام سفیر کا کہنا ہے کہ تہران اور افغانستان نقل و حمل اور ٹرانزٹ کے تعلقات وسیع کرنے پر کام کر رہے ہیں، اور چابہار بندرگاہ کو دونوں ممالک کے درمیان ایک کلیدی ربط کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی · زبان: ur

EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

Article image
— Jim Makos · BY-ND (via Openverse)

کابل میں ایران کے قائم مقام سفیر علی رضا بیکدلی کے مطابق ایران اور افغانستان نقل و حمل اور ٹرانزٹ کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر کام کر رہے ہیں، اور خاص طور پر چابہار بندرگاہ کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے سے گفتگو کرتے ہوئے بیکدلی نے کہا کہ دونوں ممالک اپنے ٹرانزٹ تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں اور چابہار کو افغانستان پر مشتمل علاقائی تجارت کے لیے ایک اسٹریٹجک راستے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

چابہار کا علاقائی کردار

خلیج عمان کے ساتھ ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع چابہار کو تہران نے طویل عرصے سے بری راستہ بند افغانستان کے لیے ایک متبادل تجارتی گزرگاہ کے طور پر فروغ دیا ہے، جو پاکستانی بندرگاہوں پر انحصار کیے بغیر بین الاقوامی بحری راستوں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ یہ بندرگاہ گزشتہ برسوں میں ایران، افغانستان، بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر مشتمل علاقائی رابطے کے مختلف مذاکرات میں شامل رہی ہے۔

آئی آر این اے کی رپورٹ میں تعاون کے اس تازہ دور سے منسلک کسی مخصوص نئے معاہدوں، ٹائم لائنز یا سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کی فوری تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ بیان اس تعلق کے بارے میں ایران کی سرکاری سفارتی پیغام رسانی کی عکاسی کرتا ہے اور افغان جانب سے اضافی ذرائع سے آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ایران اور افغانستان ایک طویل سرحد اور وسیع اقتصادی تعلقات کے حامل ہیں، جن میں تجارت، نقل مکانی اور پانی کی تقسیم کے انتظامات شامل ہیں، جو وقتاً فوقتاً دونوں حکومتوں کے درمیان تعاون اور کشیدگی دونوں کا سبب رہے ہیں۔

ذرائع

EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔

اِن زبانوں میں بھی دستیاب: ARENFRTR

متعلقہ مضامین

ایران کے صدر پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد نیویارک سے روانہ
worldسرکاریرپورٹ شدہ

ایران کے صدر پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد نیویارک سے روانہ

صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران غیر ملکی رہنماؤں سے متعدد ملاقاتوں کے بعد تہران واپس لوٹ رہے ہیں۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی

Comments

Sign in to join the conversation.

Forgot password?

No account?

Loading comments…