بریگزٹ کے دس سال بعد، برطانیہ کھل کر یورپی یونین میں واپسی پر غور کر رہا ہے
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم اب کھل کر یورپی یونین میں ممکنہ دوبارہ الحاق کا ذکر کر رہے ہیں، اور یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ بعد ہو رہا ہے جب ریفرنڈم میں ملک کے اخراج کی منظوری دی گئی تھی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

یورپی یونین سے اخراج کے حق میں تقریباً 52 فیصد ووٹوں کے ساتھ جیتے گئے بریگزٹ ریفرنڈم کے دس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد، برطانیہ کے یورپی دائرے میں واپسی کا سوال برطانوی ریاست کی اعلیٰ ترین سطح پر ایک بار پھر ابھر رہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس امکان کا کھل کر ذکر کرتے ہوئے یورپی یونین میں دوبارہ الحاق کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ یہ بیان ایک بے مثال قدم کی نشاندہی کرتا ہے: 2016 کے ووٹ کے بعد کوئی بھی برطانوی حکومتی سربراہ اس موضوع پر اس قدر آگے نہیں گیا تھا۔
مہینوں سے بڑھتی ہوئی آواز
یہ نئی پوزیشن مکمل طور پر غیر متوقع نہیں ہے۔ کئی مہینوں سے برطانوی سیاسی حلقوں اور عوامی رائے میں، کبھی کبھی مشکل اقتصادی حالات کے پس منظر میں، بریگزٹ کے حقیقی فوائد پر سوال اٹھانے والی آوازیں خاموشی سے بلند ہو رہی تھیں۔
اینڈی برنہم کی گفتگو اس بحث کو براہ راست انتظامیہ کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچا کر اسے نئی اہمیت دیتی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ کھلا پن ٹھوس اقدامات میں تبدیل ہوگا، یا ابھی کے لیے ممکنہ مستقبل کے مذاکرات سے پہلے رائے عامہ کو جانچنے کے لیے کیا گیا محض ایک ارادے کا اظہار بن کر رہ جائے گا۔
ذرائع
- Dix ans après le Brexit, le Royaume-Uni pense ouvertement à un retour dans l'Union européenne — RFI — Français
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

برازیل انتخابات: ریو کی فاویلاز میں، ایک انتہائی مطلوب ووٹر طبقہ
عام انتخابات کے پہلے دور سے چند روز قبل، امیدوار ریو دی جنیرو کی فاویلاز کے باشندوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
زابایکال علاقے میں ریچھ کے شکار پر 15 ہزار روبل انعام
علاقائی حکام نے بستیوں کے قریب درندوں کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ریچھ کے شکار پر معاوضہ متعارف کرایا ہے۔
امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت، جسے بالآخر سپریم کورٹ نے منظوری دی تھی، ناکام ہو گئی
1996 میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت بدھ کے روز ناکام ہو گئی؛ ان کے وکلاء کے مطابق وہ ٹینیسی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔
کرسٹا پائیک، جو امریکہ میں سزائے موت کی منتظر ہیں، دو مہلک انجیکشنز سے بچنے کے بعد ہسپتال میں داخل
ان کے وکلاء نے تصدیق کی کہ پائیک، جو اپنی ساتھی طالبہ کے قتل میں ملوث ہونے کے وقت 18 سال کی تھیں، ناکام سزائے موت کی کوشش کے بعد بھی زندہ ہیں۔
امریکہ میں مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشنز کے باوجود ناکام
پائیک، جو اپنی ایک ہم جماعت کو تشدد کرکے قتل کرنے کے جرم میں 30 سال سے زائد عرصے سے سزائے موت کی قیدی ہے، بدھ کے روز اسے ہلاک کرنے کے لیے دیے گئے مہلک انجیکشنز کی ناکامی کے بعد ایک طبی مرکز منتقل کر دی گئی۔