سم کی سوئی سے بچ گئی: ناکام پھانسی کی کوشش نے امریکا میں بحث چھیڑ دی
ٹینیسی میں سزائے موت کے نفاذ کی ناکام کوشش نے سزائے موت پر بحث کو ہوا دی، جب کرسٹا پائک دو زہریلے انجیکشنوں سے بچ گئیں اور ریاست نے اس سال کی تمام طے شدہ سزائے موت معطل کر دیں۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کے نفاذ کی ناکام کوشش نے امریکا میں سزائے موت پر بحث کو پھر سے ہوا دے دی، جیسا کہ جرمن میڈیا ادارے "DW" نے رپورٹ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، سزا یافتہ کرسٹا پائک سزا کے نفاذ کے دوران دو زہریلے انجیکشنوں سے بچ گئیں، جبکہ پھانسی کے طریقہ کار میں متعدد خامیاں سامنے آئیں۔
ریاست میں پھانسیاں معطل
اس واقعے کے پیش نظر، ٹینیسی حکام نے رواں سال ریاست میں مقررہ تمام پھانسیوں پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔
رپورٹ میں نفاذ کے دوران پیش آنے والی خامیوں کی تفصیل یا پائک کے کیس میں معطلی کے بعد آئندہ متوقع اقدامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں سزائے موت کے طریقہ کار کی افادیت اور قابل اعتماد ہونے پر بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔
ذرائع
- نجت من الحقن السام.. محاولة إعدام فاشلة تثير عاصفة بأمريكا — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔

امریکہ میں مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشنز کے باوجود ناکام
پائیک، جو اپنی ایک ہم جماعت کو تشدد کرکے قتل کرنے کے جرم میں 30 سال سے زائد عرصے سے سزائے موت کی قیدی ہے، بدھ کے روز اسے ہلاک کرنے کے لیے دیے گئے مہلک انجیکشنز کی ناکامی کے بعد ایک طبی مرکز منتقل کر دی گئی۔

امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔

کرسٹا پائیک ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت سے بچ گئیں
ان کے وکلاء کے مطابق، 50 سالہ سزائے موت کی قیدی پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں، اور انہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشن ناکام ہونے کے بعد ابتری کا شکار
مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی ہائی پروفائل سزائے موت اس وقت رک گئی جب مہلک انجیکشن کی دو خوراکیں اسے ہلاک کرنے میں ناکام رہیں۔

ٹینیسی دو مہلک انجیکشن خوراکوں کے باوجود کرسٹا پائیک کو موت نہ دے سکا
1995 کے ایک قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والی پائیک کے بارے میں چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ مہلک خوراکیں دیے جانے کے تقریباً 40 منٹ بعد وہ خراٹے لیتی ہوئی سنائی دیں۔