ٹرمپ کی ایران پر بمباری میں شدت لانے کی دھمکی کے دوران تیسرا امریکی طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ
وال سٹریٹ جرنل: واشنگٹن نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کشیدگی میں اضافے کا عندیہ دینے کے دوران طیارہ بردار جہاز "تھیوڈور روزویلٹ" خطے میں روانہ کر دیا۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

اخبار "وال سٹریٹ جرنل" نے بتایا ہے کہ امریکی وزارتِ جنگ نے طیارہ بردار جہاز "تھیوڈور روزویلٹ" اور اس کے لڑاکا بحری بیڑے کو مشرق وسطیٰ بھیج دیا ہے، یہ بات سکائی نیوز عربیہ کے مطابق سامنے آئی۔
یہ فوجی پیش قدمی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بمباری میں شدت لانے کا عندیہ دے رہے ہیں، اخبار کے مطابق۔
دستیاب رپورٹ میں طیارہ بردار جہاز کی خطے میں آمد کا درست وقت متعین نہیں کیا گیا، اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں شامل مخصوص فوجی اہداف کی نشاندہی کی گئی۔
دستیاب ذرائع میں ایران کے ردعمل یا اس پیش رفت سے متعلق کسی سرکاری ایرانی بیان کے بارے میں مزید تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔
یاد رہے کہ یہ خطے میں بھیجا جانے والا تیسرا طیارہ بردار جہاز ہے، اصل رپورٹ کے مطابق، جبکہ دیگر دو طیارہ بردار جہازوں یا ان کے مقاصد کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
ذرائع
- حاملة طائرات أميركية ثالثة تتجه إلى الشرق الأوسط — Sky News Arabia — World
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکا مشرق وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار بحری جنگی بیڑہ تعینات کرے گا
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن خطے میں اپنی بحری موجودگی مضبوط کر رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے
رپورٹ کے مطابق تعیناتی میں تہران پر دباؤ بڑھانے کے سلسلے میں دسیوں ہزار فوجی، ایف-35 طیارے اور میرینز شامل ہیں۔

ٹرمپ نے فلائی دبئی طیارہ واقعے کے پس منظر میں ایران کو سخت ضرب کی دھمکی دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی اگر فلائی دبئی طیارہ واقعے میں اس کے ملوث ہونے کا ثبوت مل گیا، جبکہ واشنگٹن خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
پوتن نے ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا
روسی صدر نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مرحوم سیکرٹری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرسکتے تھے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ یورپ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کا فیصلہ "کر چکا ہوگا"
امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ یورپ میں نئی امریکی فوجی موجودگی قائم کرنے کا فیصلہ شاید پہلے ہی ہو چکا ہے۔

ایران جنگ کے دوران امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں 2000 میرینز تعینات کیے، آبنائے ہرمز میں ٹینکر پر حملہ
امریکہ نے ایران کے گرد ایک وسیع تر فوجی نفری کے حصے کے طور پر روزویلٹ اسٹرائیک گروپ اور اضافی میرینز خطے میں بھیجے ہیں۔