اسپین کے شہر لیئیدا نے عوامی مقامات میں نقاب اور برقع پر پابندی دوبارہ عائد کر دی
نئے میونسپل آرڈیننس کے تحت عوامی مقامات پر مکمل چہرہ ڈھانپنے پر 750 یورو تک جرمانہ عائد ہوگا، مخصوص استثنائات کے ساتھ۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

اسپین کے کاتالونیا علاقے میں واقع لیئیدا (لیریدا) کی میونسپل کونسل نے عوامی مقامات پر مکمل چہرہ ڈھانپنے پر دوبارہ پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یورپ میں نقاب اور برقع کے قوانین سے متعلق بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔
اس آرڈیننس کے مطابق، مقامی حکام خلاف ورزی کرنے والوں پر 750 یورو تک جرمانہ عائد کر سکیں گے، تاہم مخصوص استثنائات بھی شامل ہیں جو صحت یا پیشہ ورانہ وجوہات یا مخصوص تقریبات کے تناظر میں چہرہ ڈھانپنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اس فیصلے کو خاص طور پر قابل توجہ بنانے والی بات ایک غیر معمولی سیاسی اتحاد کی تشکیل ہے: وسط-بائیں جماعت کاتالان سوشلسٹ پارٹی نے انتہائی دائیں بازو کی ووکس اور کاتالان علیحدگی پسند جماعت جونٹس کے ساتھ مل کر میونسپل کونسل میں یہ پابندی منظور کروائی۔
نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے دور سیاسی دھاروں کے اس قرب نے مقامی سیاسی حسابات کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ شناخت، نقل مکانی اور مذہبی لباس کے مسائل حالیہ برسوں میں کاتالونیا اور اسپین میں سب سے زیادہ متنازع رہے ہیں۔
لیئیدا اس سمت میں قدم اٹھانے والا پہلا اسپینی شہر نہیں ہے؛ ملک کی دیگر بلدیات بھی اس سے قبل اسی طرح کی قانون سازی کر چکی ہیں، تاہم بعض بعد میں عدالتوں کے ذریعے کالعدم قرار دے دی گئیں یا قانونی چیلنجز کے نتیجے میں ترمیم کی گئی۔
پابندی کے باضابطہ نفاذ کی درست تاریخ ابھی واضح نہیں ہوئی، اور توقع ہے کہ اس نئے اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور مذہبی آزادی کے حامیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، نیز شہر کی مسلم برادری کا رد عمل بھی سامنے آئے گا۔
ذرائع
- مدينة إسبانية تعود لحظر النقاب والبرقع .. غرامات تصل إلى 750 يورو مع استثناءات — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
متعلقہ مضامین

وولف کا اعادہ: "اسلام جرمنی کا حصہ ہے"
سابق جرمن صدر کرسٹیان وولف نے 2010 کا اپنا مشہور جملہ دہراتے ہوئے تصادم کے بجائے بقائے باہمی کا مطالبہ کیا۔

کیا جنرل آئیزنکوٹ کی مقبولیت نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے کافی ہے؟
گادی آئیزنکوٹ کی نئی جماعت سروے کی اوسط میں لیکود پر معمولی برتری رکھتی ہے، مگر متبادل حکومت بنانے کا راستہ ابھی بھی پیچیدہ ہے۔

سابق تجارتی وزیر کا کہنا ہے کہ برنہم ترقی کو فروغ دینے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے
لیبر ارکان سالانہ کانفرنس کے لیے جمع ہو رہے ہیں جبکہ پیٹر کائل نے معیشت پر زیادہ فوری توجہ کا مطالبہ کیا ہے۔
قانون ساز کا کہنا ہے کہ فلسطینی ووٹ اسرائیلی انتخابات میں 'گیم چینجر' ثابت ہو سکتا ہے
کنیسٹ رکن عوفر کاسف کہتے ہیں کہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ عرب اور فلسطینی شہریوں کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

CNN کے صحفیوں کو ٹرمپ کے ٹینیسی دورے سے روک دیا گیا
یہ اخراج اس واقعے کے ایک ہفتے بعد ہوا جب وائٹ ہاؤس نے CNN اور دیگر میڈیا اداروں کی رسائی منسوخ کر دی تھی اور پھر ایک جج نے اسے بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

CNN کو عدالتی حکم کے باوجود ٹرمپ کے پریس پول سے خارج کر دیا گیا
یہ اقدام اس فیصلے کے بعد آیا جس میں جج نے قرار دیا کہ CNN، MS NOW اور Politico کو وائٹ ہاؤس تک رسائی سے محروم کرنا غالباً غیر آئینی تھا۔
Comments
Loading comments…