امریکی خاتون کرسٹا پائیک دو پھانسی کی کوششوں سے بچنے کے بعد نازک حالت میں
پائیک، جو اب 50 سال کی ہیں، کو 1996 میں ایک پریشان حال نوعمروں کے تربیتی کیمپ میں ملنے والی ایک لڑکی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

امریکی خاتون کرسٹا پائیک، جو اب 50 سال کی ہیں، اپنی سزائے موت پر عملدرآمد کی دو کوششوں سے بچنے کے بعد نازک حالت میں ہیں، جیسا کہ بی بی سی عربی نے رپورٹ کیا۔
عدالت نے 1996 میں پائیک کو سزائے موت سنائی تھی، جب انہیں کولین سلیمر نامی لڑکی کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
اس مقدمے کی جڑیں 1995 میں ہیں، جب پائیک کی ملاقات مقتولہ سے ایک پیشہ ورانہ تربیتی کیمپ میں ہوئی جو طرزِ عمل کی خرابیوں میں مبتلا نوعمروں کے لیے مختص تھا۔
دونوں پھانسی کی کوششوں کے حالات یا مقدمے میں آئندہ قانونی اقدامات کے بارے میں ابھی تک مزید تفصیلات واضح نہیں ہوئی ہیں۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

امریکہ میں مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشنز کے باوجود ناکام
پائیک، جو اپنی ایک ہم جماعت کو تشدد کرکے قتل کرنے کے جرم میں 30 سال سے زائد عرصے سے سزائے موت کی قیدی ہے، بدھ کے روز اسے ہلاک کرنے کے لیے دیے گئے مہلک انجیکشنز کی ناکامی کے بعد ایک طبی مرکز منتقل کر دی گئی۔

موت کی سزا پر قید کرسٹا پائیک زہریلے انجیکشن کی دو کوششوں سے زندہ بچنے کے بعد ہسپتال میں، وکیل کا بیان
پائیک کے وکیل نے کہا کہ اسے پھانسی کے دوران پینٹوبارٹیل کی دو سرنجیں لگائے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔

موت کی قطار میں بند قیدی کرسٹا پائک ناکام سزائے موت کے بعد تشویشناک حالت میں
ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ مہلک انجیکشن کی دو کوششوں سے بچ گئیں اور وہ سزا کو معاف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔

امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔

کرسٹا پائیک ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت سے بچ گئیں
ان کے وکلاء کے مطابق، 50 سالہ سزائے موت کی قیدی پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں، اور انہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔