یورپی یونین کی پابندیوں کے بعد روس اور قازقستان کے درمیان ترسیلاتِ زر بارہ گنا کم ہو گئیں
یورپی یونین کی جانب سے جولائی کے آخر میں «زولوتایا کورونا» ادائیگی نظام پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد روس سے ہمسایہ ممالک کو ترسیلاتِ زر میں زبردست کمی آئی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
یورپی یونین کی جانب سے جولائی کے آخر میں «زولوتایا کورونا» ادائیگی نظام کے آپریٹر پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد روس اور سابق سوویت ریاستوں میں سے کم از کم دو — قازقستان اور جارجیا — کے درمیان ترسیلاتِ زر کا حجم یکدم کم ہو گیا۔
قازقستان اور جارجیا کے ریگولیٹرز کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے والے RBK کے مطابق، روس سے قازقستان کو ترسیلات میں تقریباً بارہ گنا کمی واقع ہوئی۔ اشاعت کا کہنا ہے کہ جارجیا کے معاملے میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھا گیا، تاہم وہاں کمی کی شرح کی تفصیل نہیں دی گئی۔
پابندیوں کے اثرات
«زولوتایا کورونا» پر عائد پابندیوں نے سرحد پار ادائیگیاں کرنے کی نظام کی صلاحیت محدود کر دی، جس سے خطے میں روس اور دیگر ممالک کے درمیان ترسیلاتِ زر کا ایک مقبول ذریعہ براہِ راست متاثر ہوا جسے انفرادی افراد اور تارکینِ وطن مزدور بڑے پیمانے پر استعمال کرتے تھے۔
ترسیلاتِ زر میں یہ بھاری کمی ان گھرانوں کو متاثر کر سکتی ہے جو روس سے آنے والی رقوم پر انحصار کرتے ہیں، اور مارکیٹ کے شرکا کو متبادل طریقے تلاش کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، جن میں کم رسمی راستے بھی شامل ہیں۔
قازقستان اور جارجیا کے ریگولیٹرز کے وہ اعداد و شمار جن کا حوالہ RBK نے دیا ہے، پابندیوں کے نافذ ہونے کے بعد کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ آگے کی صورتحال اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا ادائیگی نظام کے آپریٹرز پابندیوں کے باوجود سرحد پار لین دین جاری رکھنے کے نئے طریقے تلاش کر سکتے ہیں یا نہیں۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین
روسی حکومت نے ٹیکس انتظامیہ میں تبدیلیاں اسٹیٹ ڈوما کے سامنے پیش کیں
روسی حکومت نے اپنے بجٹ پیکیج کے ایک حصے کے طور پر ٹیکس انتظامیہ میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں، جن میں ٹیکس نگرانی کے نظام کی توسیع، خلاف ورزیوں پر زیادہ جرمانے اور غیر ملکی کنٹرول والی کمپنیوں کے لیے سخت قواعد شامل ہیں، یہ معلومات کومرسانت نے دی۔
امریکی اسٹاکس تیسری سہ ماہی میں منقسم — مہنگائی کے خدشات اور بانڈ دباؤ بازاروں پر بھاری
وال اسٹریٹ نے مختلف شعبوں میں منقسم کارکردگی کا مظاہرہ کیا کیونکہ فیڈرل ریزرو کی 2023ء کے بعد پہلی شرح سود میں اضافے اور طویل مدتی ٹریژری بانڈ کی بڑھتی پیداوار نے سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا۔

روس کی وزارت خزانہ نے 2027 کے بجٹ کے لیے ڈیویڈنڈ آمدنی میں 10 ارب ڈالر کی پیش گوئی کی
وزارت نے آئندہ سال ڈیویڈنڈ سے سرکاری بجٹ آمدنی میں اضافے کا اندازہ لگایا ہے، جو رواں سال کے متوقع 9.7 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگا۔

روس کے 2027 کے بجٹ میں تیل اور گیس کی آمدنی 83.7 ارب ڈالر متوقع
سرکاری تخمینوں کے مطابق، 2027 کے لیے روس کے وفاقی بجٹ میں تیل اور گیس کی آمدنی جی ڈی پی کے 2.8 فیصد کی نمائندگی کرے گی۔

تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، امریکی بانڈز 1994 کے بعد بدترین سہ ماہی ختم کر رہے ہیں
واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کی کمی کے باعث بیرل کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر چلی گئی، جبکہ یورپی منڈیاں پیچھے ہٹ رہی تھیں۔

فرانسیسی دس سالہ قرض کی پیداوار 2002 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
یہ اضافہ، جو شرح کو 5% کے قریب لے آیا ہے، فرانسیسی سرکاری قرض پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔