اقوام متحدہ: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کم از کم 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو خوراک کی قلت سے دوچار کر سکتی ہے
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر کھاد لے جانے والے متعدد بحری جہازوں کو روزانہ آبنائے سے گزرنے کی اجازت دی جائے تو انسانی بحران سے بچا جا سکتا ہے۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کم از کم 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو خوراک کی قلت سے دوچار کر سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے پراجیکٹ سروسز کے ڈائریکٹر خورخے موریرا دا سلوا نے زور دیا کہ اگر آبنائے سے کھاد کی کھیپ لے جانے والے محدود تعداد میں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے تو ایک وسیع تر انسانی بحران کو پھر بھی ٹالا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موریرا دا سلوا نے کہا کہ روزانہ کم از کم پانچ سے سات کھاد بردار جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت دینا اس آبی گزرگاہ میں بحری ترسیل کے طویل تعطل کے بدترین نتائج کو روکنے کے لیے کافی ہو گا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری تجارتی راہداریوں میں سے ایک ہے، اور وہاں جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی بھی مستقل پابندی عالمی رسدی زنجیروں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، جن میں کئی ممالک میں زرعی پیداوار کو سہارا دینے کے لیے درکار کھاد کی ترسیل بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار کے بیان سے یہ خدشات سامنے آتے ہیں کہ آبنائے میں تعطل نہ صرف توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرے گا، جو تیل کی برآمدات کے لیے اس راستے پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں، بلکہ اگر کھاد کی ترسیل طویل عرصے کے لیے منقطع ہو جائے تو درآمدات پر انحصار کرنے والے خطوں میں خوراک کی حفاظت پر بھی اس کے تسلسل کے ساتھ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
متعلقہ مضامین
بحرین نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے تجویز کردہ اجازت نامے اور فیس نظام کو مسترد کر دیا
بحرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اور اردن کو تقریباً 7,000 ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

پوپ پیرس میں، شی واشنگٹن میں، اور مصنوعی ذہانت ہنگامہ خیز ہفتے میں مرکزِ توجہ
واشنگٹن میں آزادیِ صحافت کے تصادم سے لے کر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں واک آؤٹ تک، عالمی رہنماؤں نے یہ ہفتہ تنازعات، سفارت کاری اور مصنوعی ذہانت کی بالادستی کی دوڑ میں گزارا، فرانس 24 کے مطابق۔

ٹرمپ نے معاونین کو بتایا کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ
امریکی صدر مبینہ طور پر اس بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں کہ ایران ان کے مطالبات پورے کرے گا اور انہوں نے اپنے عملے کو بتایا ہے کہ وہ نئی بمباری مہم کو ممکن سمجھتے ہیں، وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، جسے تاس نے نقل کیا۔
ٹرمپ ایران معاہدے پر شکوک و شبہات میں مبتلا، وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کا منصوبہ: وال اسٹریٹ جرنل
واشنگٹن نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تہران کی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی اور اس کی بجائے اقتصادی دباؤ پر انحصار کا فیصلہ کیا، وال اسٹریٹ جرنل نے اناطولو ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

زیلنسکی: روس یوکرین میں ڈیٹا سینٹرز پر حملوں کے ذریعے "روزمرہ زندگی" کو نشانہ بنا رہا ہے
یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کا مقصد لوگوں کی رابطے، تعلیم اور کام کاج کی صلاحیت کو درہم برہم کرنا ہے۔

ڈی پی آر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مغرب نے کیف میں ایسے عسکریت پسند پیدا کیے جو بچوں کے کھلونوں سے بم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں
ٹاس کے مطابق، ڈینس پوشیلن نے کہا کہ اس سرگرمی کی مغرب کی خاموش منظوری اس کے پیچھے موجود تکنیکی ذرائع کی حمایت کے ساتھ ہے۔
Comments
Loading comments…