کرسٹا پائک کی ناکام پھانسی کے بعد ٹینیسی جیل کمشنر کا استعفیٰ
گورنر نے اعلان کیا کہ ریاستی جیل نظام کے سربراہ مستعفی ہو جائیں گے کیونکہ قاتل کرسٹا پائک دو زہریلے انجیکشنز سے بچ گئیں اور تشویشناک حال میں ہیں۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

ریاستی گورنر نے بتایا کہ ٹینیسی کے جیل کمشنر مستعفی ہونے والے ہیں، ایک ایسی ناکام پھانسی کی کوشش کے بعد جس میں سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائک دو زہریلے انجیکشنز سے بچ گئیں اور انہیں تشویشناک حال میں چھوڑ دیا گیا۔
پائک کو بدھ کے دن زہریلے انجیکشن کی طریقہ کار سے گزارا گیا، لیکن دو الگ الگ خوراکیں دینے کے باوجود وہ مطلوبہ طریقے سے انتقال نہیں کر گئیں۔ عہدیداروں کے مطابق انہیں بعد میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔
گورنر کے دفتر نے تصدیق کی کہ ریاستی جیل نظام کے سربراہ اس واقعے کے پیشِ نظر عہدہ چھوڑ دیں گے، تاہم استعفے کے وقت اور پھانسی کے عمل میں خاص خامیوں کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
پائک ایک قتل کی سزا کے سلسلے میں ٹینیسی میں موت کی قطار میں بند ہیں۔ ناکام پھانسی کی کوشش کے بعد ان کا مقدمہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اس واقعے سے ٹینیسی میں زہریلے انجیکشن کے پروٹوکول کے بارے میں نئے سوالات اٹھنے کا امکان ہے، جو حالیہ برسوں میں کئی امریکی ریاستوں میں قانونی اور طریقہ کار سے متعلق چیلنجوں کا سامنا کر چکا ہے۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ پھانسی کی ایک اور کوشش کا کوئی وقت مقرر ہے یا نہیں، اور نہ ہی انہوں نے بتایا کہ پائک اس وقت کیا طبی علاج حاصل کر رہی ہیں۔
ذرائع
- Tennessee prison chief to resign after Christa Pike's failed execution, governor says — BBC News — World
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔

امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔

کرسٹا پائیک ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت سے بچ گئیں
ان کے وکلاء کے مطابق، 50 سالہ سزائے موت کی قیدی پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں، اور انہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

کرسٹا پائیک کی سزائے موت دو مہلک انجیکشن ناکام ہونے کے بعد ابتری کا شکار
مجرم قاتل کرسٹا پائیک کی ہائی پروفائل سزائے موت اس وقت رک گئی جب مہلک انجیکشن کی دو خوراکیں اسے ہلاک کرنے میں ناکام رہیں۔

ٹینیسی دو مہلک انجیکشن خوراکوں کے باوجود کرسٹا پائیک کو موت نہ دے سکا
1995 کے ایک قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والی پائیک کے بارے میں چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ مہلک خوراکیں دیے جانے کے تقریباً 40 منٹ بعد وہ خراٹے لیتی ہوئی سنائی دیں۔

موت کی قطار میں بند قیدی کرسٹا پائک ناکام سزائے موت کے بعد تشویشناک حالت میں
ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ مہلک انجیکشن کی دو کوششوں سے بچ گئیں اور وہ سزا کو معاف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔