ٹینیسی جیل انتظامیہ کے سربراہ نے کرسٹا پائک کی ناکام پھانسی کے بعد استعفیٰ دے دیا
فرینک سٹراڈا نے اپنا استعفیٰ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ "ٹینیسی کے لوگوں کے مفاد میں" عمل کر رہے ہیں، جبکہ اس ناکامی پر ایک آزاد تحقیقات شروع ہو گئی ہے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

ٹینیسی جیل انتظامیہ کے سربراہ فرینک سٹراڈا نے اس امریکی ریاست میں سزائے موت یافتہ کرسٹا پائک کی پھانسی کے ناکام ہونے کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کیا۔
ایک بیان میں فرینک سٹراڈا نے کہا کہ یہ استعفیٰ "ٹینیسی کے لوگوں کے مفاد میں" دیا جا رہا ہے، اور اپنے فیصلے پر پہنچانے والے حالات کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔
پھانسی کے طریقہ کار میں ناکامی — کرسٹا پائک کا منصوبہ کے مطابق انتقال نہ کرنا — کی وجوہات جاننے کے لیے ایک آزاد تحقیقات شروع کی گئی ہے۔
اس معاملے نے کئی امریکی ریاستوں میں استعمال ہونے والے زہریلے انجیکشن کے پروٹوکول کے بارے میں سوالات دوبارہ اٹھا دیے ہیں، ایک ایسا طریقہ جو پہلے بھی قانونی اور طریقہ کار سے متعلق اعتراضات کا موضوع رہا ہے۔
ٹینیسی جیل انتظامیہ اور نہ ہی ریاستی حکام نے ابھی تک یہ بتایا ہے کہ ادارے کی قیادت میں فرینک سٹراڈا کا جانشین کون ہوگا۔
ذرائع
- Christa Pike : le chef de l’administration pénitentiaire du Tennessee démissionne après l’exécution ratée d’une femme — Le Monde — Une
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

کرسٹا پائک کی ناکام پھانسی کے بعد ٹینیسی جیل کمشنر کا استعفیٰ
گورنر نے اعلان کیا کہ ریاستی جیل نظام کے سربراہ مستعفی ہو جائیں گے کیونکہ قاتل کرسٹا پائک دو زہریلے انجیکشنز سے بچ گئیں اور تشویشناک حال میں ہیں۔

امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت، جسے بالآخر سپریم کورٹ نے منظوری دی تھی، ناکام ہو گئی
1996 میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت بدھ کے روز ناکام ہو گئی؛ ان کے وکلاء کے مطابق وہ ٹینیسی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

کرسٹا گیل پائیک کے مہلک ٹیکے سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا
حکام 1995 کے ایک قتل کے الزام میں بدھ کے روز پائیک کو مہلک دوا کی دو خوراکیں دینے کے باوجود موت کی سزا پر عمل درآمد نہ کر سکے، جس کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں اس سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔

امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، وہ اب بھی سانس لے رہی ہیں
گواہوں اور ان کے وکیل کے مطابق، سپریم کورٹ کی اجازت کے چند گھنٹوں بعد مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود مجرمہ اب بھی سانس لے رہی تھیں اور خراٹے بھی لے رہی تھیں۔

موت کی قطار میں بند قیدی کرسٹا پائک ناکام سزائے موت کے بعد تشویشناک حالت میں
ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ مہلک انجیکشن کی دو کوششوں سے بچ گئیں اور وہ سزا کو معاف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ: کرسٹا پائیک کے ناکام اعدام کے بعد ٹینیسی میں مہلک انجیکشن معطل
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کی ڈائریکٹر نے اس اعدام کو حالیہ عرصے میں دیکھے گئے بدترین واقعات میں شمار کیا، جبکہ ریاست نے آزادانہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔