EGEGazette
Live
ایران کی واشنگٹن کو آبنائے ہرمز سات دن میں دوبارہ کھولنے کی پیشکشایران کے وزیر خارجہ کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا سات روزہ منصوبہٹرمپ نے مبینہ طور پر ہرمز آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز مسترد کر دیٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی پیشکش مسترد کر دی، وال سٹریٹ جرنل کا دعویٰٹرمپ نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ایرانی منصوبہ مسترد کر دیاایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز، ریاض میں سعودی، ترک اور پاکستانی دفاعی اجلاسپینٹاگون: ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے 861 امریکی فوجی زخمیایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو سات روزہ منصوبہ پیش کر دیا، وزیر خارجہ کا بیانامریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو متنازع ووٹر تصدیقی نظام استعمال کرنے کی اجازت دے دی
worldبریکنگاے آئی تجزیہرپورٹ شدہ

جمہوری جمہوریہ کانگو میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، کم از کم 17 افراد ہلاک، دو جرنیل بھی شامل

الجزیرہ کے مطابق، جمہوری جمہوریہ کانگو میں فوج کا ایک طیارہ رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں شہری اور دو جرنیل ہلاک ہو گئے۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی · زبان: ur

EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، جمہوری جمہوریہ کانگو کی فوج کا ایک طیارہ رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہونے کے بعد کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں زمین پر موجود عام شہریوں کے علاوہ طیارے میں سوار دو جرنیل بھی شامل تھے۔ یہ حادثہ ایک گنجان آباد علاقے میں پیش آیا، اور امدادی و تلاشی کارروائیاں جاری رہنے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بتائی گئی۔

ابتدائی رپورٹس میں حادثے کی وجہ، طیارے کی قسم، یا ملک کے اندر درست مقام کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس رپورٹ کی تیاری تک کانگو حکام کی جانب سے واقعے کے حالات پر کوئی مکمل باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

ذرائع

EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔

اِن زبانوں میں بھی دستیاب: ARENFRTR

متعلقہ مضامین

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوجوں نے اوڈیسا خطے میں لاجسٹکس سینٹر کو نشانہ بنایا
worldسرکاریرپورٹ شدہ

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوجوں نے اوڈیسا خطے میں لاجسٹکس سینٹر کو نشانہ بنایا

ماسکو کا دعویٰ ہے کہ ڈیلیوری کمپنی نووایا پوچتا کے زیرِ انتظام اس سہولت کو یوکرینی افواج کے لیے فوجی سامان ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی

Comments

Sign in to join the conversation.

Forgot password?

No account?

Loading comments…