ایتھوپیا کے آخری یہودی اب بھی اسرائیل کے ویزے کا انتظار کر رہے ہیں
ایتھوپیا میں دنیا کی قدیم ترین یہودی برادریوں میں سے ایک کے افراد اپنے ان رشتہ داروں سے ملنے کی امید رکھتے ہیں جو پہلے ہجرت کر چکے ہیں۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

ایتھوپیا دنیا کی قدیم ترین یہودی برادریوں میں سے ایک کا گھر ہے — ایک ایسا گروہ جس کی اصلیت روایت کے مطابق تقریباً 950 قبل مسیح میں ملکہ سبا اور بادشاہ سلیمان سے ملتی ہے۔
بیتا اسرائیل کے نام سے جانی جانے والی اس برادری نے ایتھوپیا کے کمیونسٹ نظام کے دوران، جو 1970ء کی دہائی سے 1990ء کی دہائی کے اوائل تک برسراقتدار رہا، شدید ظلم و ستم برداشت کیا۔ اس دور میں برادری کے افراد اپنی مذہبی اور نسلی شناخت کی وجہ سے امتیازی سلوک اور مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔
ڈرامائی فضائی انخلاء مہمات
برادری کی مصیبت کے جواب میں اسرائیل نے دو بڑی انخلاء مہمات چلائیں، جنہیں آپریشن سلیمان اور آپریشن موسیٰ کا نام دیا گیا۔ ان دونوں مہمات نے مل کر 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں فضائی پروازوں کے ذریعے 20,000 سے زائد ایتھوپیائی یہودیوں کو اسرائیل پہنچایا۔
ان مہمات کے بڑے پیمانے کے باوجود، بیتا اسرائیل برادری کے چند ہزار افراد ایتھوپیا میں رہ گئے، اور ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی امید رکھتے ہیں کہ انہیں ہجرت کا موقع ملے گا اور وہ اپنے ان رشتہ داروں سے مل سکیں گے جو پہلے یہ سفر کر چکے ہیں۔
جو لوگ ابھی بھی ایتھوپیا میں ہیں، ان کے لیے ہجرت کا راستہ غیر یقینی ہے، جو پیچیدہ اہلیت کے معیارات اور بیوروکریٹک طریقہ کار سے مشروط ہے جو طے کرتا ہے کہ ملک کے متعلقہ قوانین اور پروگراموں کے تحت اسرائیل ہجرت کا حق کسے حاصل ہے۔
برادری کی صورتحال حمایتی گروپوں اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جو بقیہ افراد کی صورتحال کی وضاحت اور ایسے پروگراموں کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جن سے اہل افراد اپنا ہجرت کا عمل مکمل کر سکیں۔
برادری کے بقیہ افراد کے لیے کسی بھی مزید انخلاء یا ویزے کی منظوری کا صحیح وقت ابھی تک متعین نہیں کیا گیا، جس سے بہت سے خاندان غیر یقینی کی ایک طویل کیفیت میں ہیں کہ وہ کب — یا آیا — دوبارہ مل سکیں گے۔
ذرائع
- Ethiopia's last Jews dream of visa for Israel — France 24 — English
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

پائلٹوں کے درمیان جھگڑے کے بعد اسرائیل جانے والی پرواز کا رخ موڑ دیا گیا
ایک مختصر اغوا کے انتباہ نے تشویش پیدا کی، اس سے قبل کہ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ کوئی اغوا نہیں ہوا۔
ایتھوپیا کی حکومت اور تیگرائی باغیوں کے درمیان دوبارہ لڑائی، نئی خانہ جنگی کے خدشات
فرانسیسی نشریاتی ادارے آر ایف آئی کے مطابق، ادیس ابابا اور تیگرائی باغی افواج کے درمیان جھڑپیں حالیہ دنوں میں شدت اختیار کر گئی ہیں، جس سے مکمل خانہ جنگی کی طرف واپسی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

قطری وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دوحہ پر حملے نے ٹرمپ کی تجویز سے منسلک ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے کہا کہ امریکی حمایت یافتہ تجویز پر ثالثی کے دوران قطر پر اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا۔
امریکی سینیٹ نے اسرائیل کے انسانی حقوق کے طریقوں سے متعلق قرارداد کو آگے بڑھانے کی تحریک مسترد کر دی
سینیٹرز نے 47 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے اس اقدام کو آگے بڑھانے کے خلاف رائے دی، جس میں اسرائیل کے طرزِ عمل سے جڑے انسانی حقوق کے حالات پر خدشات اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔

"فلائی دبئی" کی پرواز کے پائلٹوں کے درمیان جھگڑے سے جہاز کا رخ اسرائیل سے سعودیہ کی طرف موڑا گیا
"فلائی دبئی" کا ایک طیارہ سعودی عرب میں اضطراری لینڈنگ پر مجبور ہوا جب روسی پائلٹ اور اس کے یوکرینی معاون کے درمیان جھگڑا ہوا۔

جنوبی کوریا کی پھنسی ہوئی شارک نے بوسان میں پانچ لاکھ سے زائد سیاح کھینچے
جنوبی کوریا کے بندرگاہی شہر کے قریب پھنسی ہوئی شارک کو بڑے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے بعد اعزازی سفیر قرار دے دیا گیا۔