20 سال سے زائد قیام کے بعد آخری امریکی فوجی عراق سے روانہ
امریکی فوج، جو 2003 میں صدام حسین کا تختہ الٹنے کے لیے پہنچی تھی، بدھ کے روز عراق میں اپنے آخری اڈوں سے واپس چلی گئی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
آر ایف آئی کے مطابق، عراق میں موجود آخری امریکی فوجی بدھ 30 ستمبر کو اپنے اڈوں سے روانہ ہو گئے، جس کے ساتھ ہی ملک میں بیس سال سے زائد عرصے پر محیط فوجی موجودگی کا خاتمہ ہو گیا۔
امریکی فوج 2003 میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پہنچی تھی، اور بعد ازاں داعش کے خلاف لڑنے والے بین الاقوامی اتحاد کی سرکردہ قوت بن گئی۔
2024 میں طے پانے والا انخلا
یہ انخلا صدر جو بائیڈن نے 2024 میں طے کیا تھا۔ آر ایف آئی کے مطابق، یہ اقدام ایک ایسے علاقائی تناظر میں سامنے آیا ہے جہاں امریکہ، اسرائیل اور ایران سے متعلق وسیع تر کشیدگی پائی جاتی ہے۔
رپورٹ میں اس آخری انخلا سے متاثر ہونے والے فوجیوں کی درست تعداد یا عراقی سرزمین سے ان کی روانگی کے عملی طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی گئی۔
عراق میں سکیورٹی صورتحال، خصوصاً ملک میں موجود مسلح گروہوں کے تناظر میں، اس انخلا کے اثرات کا جائزہ آئندہ ہفتوں میں لیا جانا باقی ہے۔
ذرائع
- Après plus de 20 ans de présence dans le pays, les derniers soldats américains quittent l'Irak — RFI — Français
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

میانمار میں بازار کے قریب فضائی حملہ، تھائی لینڈ میں سیلاب، قطر ثالثی تنازعہ اور روس کی جوہری وارننگ نے عالمی امور میں ایک ہنگامہ خیز دن کو نشان زد کیا
میانمار میں ایک ہلاکت خیز فوجی فضائی حملہ، تھائی لینڈ میں تباہ کن سیلاب، امریکی حمایت یافتہ ثالثی کوشش سے منسلک قطر پر حملے کے اثرات، اور کالینین گراڈ پر روس کی جوہری وارننگ نے ایک دوسرے سے اُلجھے بحرانوں کے دن کو نمایاں کیا۔

قطری وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دوحہ پر حملے نے ٹرمپ کی تجویز سے منسلک ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے کہا کہ امریکی حمایت یافتہ تجویز پر ثالثی کے دوران قطر پر اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا۔
دونوں کوریائی ممالک ڈی ایم زیڈ میں ہونے والے دھماکوں پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں جن میں تین فوجی زخمی ہوئے
جنوبی کوریا ڈی ملٹرائزڈ زون میں ہونے والے دھماکوں کے بعد شمالی کوریا سے معافی کا مطالبہ کر رہا ہے جن میں تین فوجی زخمی ہوئے۔
ایکسیوس: قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات تعطل کا شکار
ایکسیوس کے مطابق مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، اور امریکی حکام کے خیال میں لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی خلا کے خدشات کے درمیان... امریکی افواج عراق سے روانہ
امریکی افواج نے دو دہائیوں سے زائد فوجی موجودگی کے بعد عراق میں اپنے باقی ماندہ اڈوں سے انخلا مکمل کر لیا۔
ایتھوپیا: تگرائے میں لڑائی جاری، ادیس ابابا کا اریٹریا، سوڈان اور مصر پر الزام
ملک کے شمال میں باغی جارحیت کے آغاز کے آٹھ دن بعد، ایتھوپیائی حکومت کا کہنا ہے کہ کئی ہمسایہ ممالک تگرائے کے باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔