ایکسیوس: قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات تعطل کا شکار
ایکسیوس کے مطابق مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، اور امریکی حکام کے خیال میں لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.
قطر کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ نشریاتی ادارے ایکسیوس نے مذاکراتی عمل سے واقف ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
ادارے کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث فریقین کے درمیان لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔
قطری ثالثی کا کردار
قطر خطے کے سفارتی عمل میں متعدد بار ثالث کا کردار ادا کر چکا ہے، اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات میں اس کی شمولیت کو فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
ایکسیوس کی رپورٹ میں اختلاف کے مخصوص نکات یا مذاکرات کے مزید ادوار کے منصوبے سے متعلق کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکہ اور ایران کے حکام کی جانب سے تاحال اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

میانمار میں بازار کے قریب فضائی حملہ، تھائی لینڈ میں سیلاب، قطر ثالثی تنازعہ اور روس کی جوہری وارننگ نے عالمی امور میں ایک ہنگامہ خیز دن کو نشان زد کیا
میانمار میں ایک ہلاکت خیز فوجی فضائی حملہ، تھائی لینڈ میں تباہ کن سیلاب، امریکی حمایت یافتہ ثالثی کوشش سے منسلک قطر پر حملے کے اثرات، اور کالینین گراڈ پر روس کی جوہری وارننگ نے ایک دوسرے سے اُلجھے بحرانوں کے دن کو نمایاں کیا۔

قطری وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دوحہ پر حملے نے ٹرمپ کی تجویز سے منسلک ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے کہا کہ امریکی حمایت یافتہ تجویز پر ثالثی کے دوران قطر پر اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا۔
دونوں کوریائی ممالک ڈی ایم زیڈ میں ہونے والے دھماکوں پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں جن میں تین فوجی زخمی ہوئے
جنوبی کوریا ڈی ملٹرائزڈ زون میں ہونے والے دھماکوں کے بعد شمالی کوریا سے معافی کا مطالبہ کر رہا ہے جن میں تین فوجی زخمی ہوئے۔

سیکیورٹی خلا کے خدشات کے درمیان... امریکی افواج عراق سے روانہ
امریکی افواج نے دو دہائیوں سے زائد فوجی موجودگی کے بعد عراق میں اپنے باقی ماندہ اڈوں سے انخلا مکمل کر لیا۔
20 سال سے زائد قیام کے بعد آخری امریکی فوجی عراق سے روانہ
امریکی فوج، جو 2003 میں صدام حسین کا تختہ الٹنے کے لیے پہنچی تھی، بدھ کے روز عراق میں اپنے آخری اڈوں سے واپس چلی گئی۔
ایتھوپیا: تگرائے میں لڑائی جاری، ادیس ابابا کا اریٹریا، سوڈان اور مصر پر الزام
ملک کے شمال میں باغی جارحیت کے آغاز کے آٹھ دن بعد، ایتھوپیائی حکومت کا کہنا ہے کہ کئی ہمسایہ ممالک تگرائے کے باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔