تیونسی نوجوان خواتین بے روزگاری اور ہجرت سے بچنے کے لیے زراعت کا رخ کر رہی ہیں
بڑھتی بے روزگاری اور دیہی علاقوں سے نقل مکانی کے دباؤ میں تیونسی نوجوان خواتین کھیتی باڑی اور مویشی پالنے میں اپنی روزی روٹی اور دیہی احیاء کا موقع دیکھ رہی ہیں۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

تیونس میں نوجوان خواتین کی بڑھتی تعداد زراعت اور مویشی پالنے کی طرف رخ کر رہی ہے، ایسے وقت میں جب بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے اور دیہی آبادی روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کی طرف تیزی سے نقل مکانی کر رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تجربہ ایسے دیہی علاقوں میں پائیدار معاشی متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی نمائندگی کرتا ہے جو طویل عرصے سے پسماندگی اور کم سرمایہ کاری کا شکار رہے ہیں۔
شمال مغرب میں ایک منصوبہ
تیونس کے شمال مغرب میں ایک چھوٹے سے فارم سے نورہ القاطری اس تبدیلی کی ایک مثال پیش کرتی ہیں۔ روایتی شعبوں میں برسوں روزگار تلاش کرنے کے بعد القاطری نے موسمی فصلوں کی کاشت اور مویشی پالنے کو یکجا کرنے والا ایک چھوٹا زرعی منصوبہ شروع کرنے کے لیے اپنے خاندانی زمین پر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ معاملے پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس نوع کے منصوبوں کو مقامی حوصلہ افزائی ملنے لگی ہے، اگرچہ مالیات، مارکیٹنگ اور دیہی بنیادی ڈھانچے کی کمی سے متعلق چیلنجز برقرار ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار اشارہ دیتے ہیں کہ تیونس میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح اب بھی بلند ہے، جو دیہی آبادی کی بڑھتی ہوئی تعداد، خاص طور پر خواتین کو، شہروں یا بیرون ملک ہجرت کے بجائے اپنے علاقوں میں ہی متبادل ذریعہ معاش تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
جاری چیلنجز
ان منصوبوں کی انفرادی کامیابیوں کے باوجود، تیونس کے زرعی شعبے کو ڈھانچہ جاتی مشکلات کا سامنا ہے جن میں دیہی نوجوانوں اور خواتین کے لیے قرضوں کی محدودیت اور بعض علاقوں میں آب پاشی اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کی کمزوری شامل ہے۔ دیہی خواتین کی مدد کرنے والی مقامی تنظیمیں زور دیتی ہیں کہ سہل مالی وسائل اور خصوصی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ان تجربات کو ملک کے مختلف حصوں میں مزید نوجوان خواتین تک پھیلانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے اقدامات کی حمایت محض بے روزگاری کا انفرادی حل نہیں، بلکہ یہ دیہی نقل مکانی کو کم کرنے اور ان علاقوں میں زرعی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے جو تاریخی طور پر زراعت پر منحصر تھے۔
ذرائع
- الزراعة كخيار صعب: شابّات تونسيات في مواجهة البطالة والهجرة — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

خطے کی جنگیں گیس کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہیں: مصر اور ترکیہ دوڑ کے مرکز میں
ایک ہسپانوی اخبار کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں مقابلہ صرف گیس کے ذخائر دریافت کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب گیس کی نقل و حمل اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کے حصول تک پھیل گیا ہے۔

تونس میں پانی کی بوتلوں کا بحران آبی شعبے کی کمزوری بے نقاب کرتا ہے
بوتل بند پانی کے بحران میں کمی کے باوجود، اس کے اثرات تونس میں پانی کی قلت اور تقسیم کے نیٹ ورکس کی خستہ حالی سے متعلق گہرے چیلنجز سامنے لا رہے ہیں۔

تیونس زمین اور آسمان کے درمیان پانی کے بحران کا حل تلاش کر رہا ہے
پانچ سال کی خشک سالی کے بعد 2025 کے اوائل میں بارشوں میں نسبتاً بہتری کے باوجود، تیونس موسمیاتی تبدیلی اور ڈیموں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ سے سنگین آبی بحران کا شکار ہے۔

رضاکار گروپ کا کہنا ہے کہ ایندھن کی لاگت کھانے کی ڈیلیوری کے ڈرائیور امیدواروں کو روک رہی ہے
Maureen Bougeard کہتی ہیں کہ ممکنہ رضاکار ڈرائیور اکثر اخراجات معلوم ہونے پر دستبردار ہو جاتے ہیں۔
جاپانی اور امریکی مالیاتی سربراہوں نے ٹرمپ کی 'تشویش' کے درمیان کرنسی کی حرکات پر تبادلہ خیال کیا
کاتایاما نے امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ سے ملاقات کی اور شرح مبادلہ کے رجحانات پر ٹرمپ کی رپورٹ ہونے والی تشویش کے درمیان کرنسی کی تحریکوں پر گفتگو کی۔

بی بی سی کا جائزہ: شرح سود میں اضافے پر بچت کریں یا مزید رہن ادا کریں؟
بی بی سی بزنس کا ایک ویڈیو سیگمنٹ اس سوال کا جائزہ لیتا ہے کہ شرح سود بڑھنے پر گھر مالکان کو رقم بچانی چاہیے یا اپنے رہن میں اضافی ادائیگی کرنی چاہیے۔