ہزاروں جرمن شہری برلن اور اشٹٹگارٹ میں اسلحہ سازی اور لازمی فوجی بھرتی کے منصوبوں کے خلاف سراپا احتجاج
دو جرمن شہروں میں مظاہرین فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے اور لازمی فوجی خدمت کی ممکنہ واپسی کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل آئے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

ہفتہ کو ہزاروں افراد جرمن حکومت کے اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے برلن اور اشٹٹگارٹ کی سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ ملک میں لازمی فوجی خدمت کے دوبارہ نفاذ کے امکانات سے متعلق خبردار کیا جا رہا تھا۔
مظاہرین نے "حد سے زیادہ اسلحہ سازی نہیں، لازمی فوجی خدمت نہیں، جنگ نہیں" کے نعرے لگائے اور برلن کی جانب سے فوجی اخراجات بڑھانے اور مسلح افواج کو وسعت دینے کے رویے کو مسترد کیا، جبکہ یورپ میں بڑھتے ہوئے سلامتی خطرات پر بحث جاری تھی۔
یہ مظاہرے اس وقت ہوئے جب جرمنی میں فوجی خدمت کے مستقبل پر سیاسی بحث نئے سرے سے چھڑ گئی تھی — ملک نے 2011 میں لازمی بھرتی کا نظام معطل کر دیا تھا۔ کچھ سیاسی حلقے براعظم کے موجودہ سلامتی ماحول کے پیش نظر اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق کسی بھی شہر میں مظاہروں کے دوران کوئی قابل ذکر تشدد کا واقعہ نہیں ہوا۔ برلن اور اشٹٹگارٹ میں شرکت کا پیمانہ جرمن رائے عامہ کے اس طبقے کی عکاسی کرتا ہے جو حکومت کی نئی فوجی سمت پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔
جرمن حکومت نے ان مظاہروں پر ابھی تک کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔
ذرائع
- آلاف الألمان يتظاهرون في برلين وشتوتغارت ضد إعادة التسلح والتجنيد الإلزامي — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

پیرس پرائیڈ مارچ کے جھنڈوں تلے، انتہائی دائیں بازو کے عروج کا خوف
پیرس پرائیڈ مارچ نے اس ہفتہ اپنا ہجوم دوبارہ حاصل کر لیا، لیکن بہت سے شرکاء نے صدارتی انتخابات سے پہلے LGBT+ حقوق کے پسپائی کے خوف کا اظہار کیا۔

اسٹائن مائر نے جرمن اتحاد کے دن جمہوریت اور انتہا پسندی کے بارے میں خبردار کیا
جرمن دوبارہ اتحاد کی 36ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب میں صدر نے کہا کہ بہت سے شہریوں نے سیاسی نظام پر اعتماد کھو دیا ہے اور انتہا پسندانہ دیماگوجی کے خلاف مزاحمت کی ترغیب دی۔

کرسٹا پائک کی ناکام پھانسی کے بعد ٹینیسی جیل کمشنر کا استعفیٰ
گورنر نے اعلان کیا کہ ریاستی جیل نظام کے سربراہ مستعفی ہو جائیں گے کیونکہ قاتل کرسٹا پائک دو زہریلے انجیکشنز سے بچ گئیں اور تشویشناک حال میں ہیں۔

بادینوک نے سیاستدانوں کو دھمکیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا
کنزرویٹو لیڈر نے بی بی سی کی لورا کوئنسبرگ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ سیاستدانوں کو ملنے والی دھمکیوں سے نمٹنا "واقعی بہت مشکل" ہے۔

لولا اور فلاویو بولسونارو نے انتہائی سخت برازیلی انتخابات سے قبل اپنی مہمات بند کر لیں
صدر لولا دا سیلوا اور فلاویو بولسونارو کے پاس ہفتہ کے دن ساو پاولو میں ووٹ حاصل کرنے کا آخری موقع ہے، اسکینڈلز سے داغدار انتخابات سے قبل۔

ٹینیسی جیل انتظامیہ کے سربراہ نے کرسٹا پائک کی ناکام پھانسی کے بعد استعفیٰ دے دیا
فرینک سٹراڈا نے اپنا استعفیٰ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ "ٹینیسی کے لوگوں کے مفاد میں" عمل کر رہے ہیں، جبکہ اس ناکامی پر ایک آزاد تحقیقات شروع ہو گئی ہے۔