اسٹائن مائر نے جرمن اتحاد کے دن جمہوریت اور انتہا پسندی کے بارے میں خبردار کیا
جرمن دوبارہ اتحاد کی 36ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب میں صدر نے کہا کہ بہت سے شہریوں نے سیاسی نظام پر اعتماد کھو دیا ہے اور انتہا پسندانہ دیماگوجی کے خلاف مزاحمت کی ترغیب دی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

جرمن صدر فرانک-والٹر اسٹائن مائر نے جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی 36ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خطاب میں خبردار کیا کہ انتہا پسندانہ بیان بازی قومی یکجہتی اور سیاسی نظام پر عوامی اعتماد کو کمزور کر رہی ہے۔
ہر سال 3 اکتوبر کو 1990 میں مشرقی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کی یاد میں منائے جانے والے جرمن یوم اتحاد پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اسٹائن مائر نے تقسیم کے اس زخم کو یاد کیا جو گزشتہ دہائیوں میں بھرا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "انتہا پسندانہ دیماگوجی ہماری اندرونی یکجہتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے" — یہ الفاظ ملک میں بنیاد پرست سیاسی تحریکوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کی طرف اشارہ تھے۔
صدر نے اعتراف کیا کہ اعتماد کا ایک گہرا بحران بھی موجود ہے اور کہا کہ "شہریوں کا ایک بڑا حصہ سیاسی نظام پر اعتماد کھو چکا ہے"۔ یہ ریمارک ملک کی جمہوری اداروں کی قانونی حیثیت اور ان کی جوابدہی کے حوالے سے جرمن اعلیٰ عہدیداروں کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
اسٹائن مائر کے خطاب میں اس خیال پر خاص زور دیا گیا کہ جمہوریت "فروخت کے لیے نہیں ہے" — یہ جملہ انہوں نے انتہا پسند قوتوں کو عوامی مایوسی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے خبردار کرنے کے لیے استعمال کیا۔
جرمن یوم اتحاد کی تقریبات میں عام طور پر وفاقی حکومت کی میزبانی میں ایک رسمی تقریب شامل ہوتی ہے جس میں صدر اور چانسلر جرمن جمہوریت اور معاشرے کی صورتحال پر خطاب کرتے ہیں۔ اسٹائن مائر کی تنبیہ اعلیٰ عہدیداروں کی حالیہ عوامی بیانات کی ایک سلسلے میں شامل ہو گئی ہے جنہوں نے سیاسی انتشار اور مرکزی دھارے کے سیاسی اداروں پر اعتماد کے کٹاؤ پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ذرائع
- شتاينماير في ذكرى الوحدة الألمانية: "الديمقراطية ليست للبيع".. محذرا من التطرف وانعدام الثقة بالنظام — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

اشتاین مائر: جرمن جمہوریت کو اتحاد کے بعد سے سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے
9 نومبر کی علامتی برسی پر جرمن صدر نے انتہائی دائیں بازو کے عروج اور یہود دشمنی اور اسلاموفوبیا میں اضافے کے خلاف خبردار کیا۔

جرمنی کے مشرق اور مغرب کے درمیان دولت اور اثر و رسوخ کا فرق اتحاد کے عشروں بعد بھی برقرار
مشرقی جرمنی کے معاملات کے لیے وفاقی کمشنر نے اتحاد کی پیشرفت کا ملاجلا جائزہ پیش کیا، سیمسن موٹرسائیکلوں کی علامتی قدر کا حوالہ دیتے ہوئے۔

شدید تنقید کے بعد جرمن وزیر نے دفتری بیچ چیئر واپس کر دی جسے سورج بادشاہ کے تخت سے تشبیہ دی گئی تھی
ایک نوجوان جرمن وزیر کو اپنے دفتر کے لیے ساحل سمندر کی کرسی خریدنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے فیصلہ واپس لے لیا۔

جرمن فوج نے عراقی کردستان میں مشن ختم کر دیا، سیکیورٹی خدشات سامنے آ گئے
جرمنی نے مشن کامیاب قرار دے کر عراق سے فوج واپس بلا لی، کرد حکام نے سیکیورٹی خلا کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا۔

برلن کی دیوار کے ٹکڑے دنیا کے مختلف حصوں میں کیسے پھیلے؟
9 نومبر 1989 کو گرنے کے بعد سے برلن کی دیوار کے ٹکڑے دنیا بھر کے متعدد مقامات پر تاریخی یادگاروں میں تبدیل ہو گئے۔

یانس واروفاکس نے The Guardian کے نئے پوڈکاسٹ میں کہا کہ 'جمہوریت جیسی کوئی چیز نہیں ہے'
The Guardian کی Radical Thinking سیریز کے افتتاحی قسط میں یونان کے سابق وزیر خزانہ اس بحث میں حصہ لیتے ہیں کہ اصل اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے — ووٹرز کے یا مارکیٹوں کے۔