EGEGazette
Live
ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز مسترد کیے جانے پر برینٹ خام تیل 107 ڈالر سے تجاوز کر گیابرطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس کی آر اے ایف اڈے کے قریب بم دھماکے کی سازش میں ایران کے ممکنہ تعلق کی تحقیقاتتیل کی قیمتوں میں اضافہ: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز مستردرپورٹ: آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل حملے میں 8 امریکی میرینز زخمیایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے دوران جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہےایران کا کہنا ہے کہ وہ 'حقیقی سفارت کاری' کے لیے تیار ہے لیکن 'قیامت خیز جنگ' کے لیے بھی تیار ہےامریکی فوج کے زیرِ استعمال RAF اڈے کے قریب دھماکہ خیز مواد ملنے کے بعد پانچ افراد دہشت گردی کے الزام میں گرفتارٹرمپ نے کہا: برطانوی فضائی اڈے کے قریب گرفتار ملزمان 'بڑا نقصان' پہنچانا چاہتے تھےایران کے عراقچی کا دعویٰ: تہران امریکہ کے خلاف 'قیامت خیز جنگ' کے لیے تیار، یورینیم افزودگی کا دفاع
تہذیباے آئی تجزیہرپورٹ شدہ

جرمن گھر ماضی کی داستانیں سناتے ہیں: یہودی نسلیں اپنے اجداد کے نقوش تلاش کرنے واپس آ رہی ہیں

جرمنی کے موجودہ باشندے ان یہودی خاندانوں کی اولادوں سے ملتے ہیں جو نازی دور میں فرار ہوئے یا جبری طور پر جلاوطن کیے گئے، جڑوں کی تلاش میں ان کے دل کو چھو جانے والے سفروں میں۔

بذریعہ EGazette AI · · 2 منٹ پڑھائی · زبان: ur

EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

Article image
— Deutsche Welle — Arabic

جرمنی کے کئی شہروں اور قصبوں میں مکانوں کے موجودہ مکین خود کو ایک بار بار پوچھے جانے والے سوال کے سامنے پاتے ہیں: ان سے پہلے یہاں کون رہتا تھا؟ یہ سوال انہیں ملکیتی ریکارڈوں اور مقامی محفوظات میں تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے، ان خاندانوں کی شناخت ڈھونڈنے کے لیے جو دہائیوں پہلے ان کے گھروں میں آباد تھے۔

ان کہانیوں میں حال ہی میں ان جرمن-یہودی خاندانوں کی نسلوں کے سفر ابھر کر سامنے آئے ہیں جنہیں نازی دور میں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا یا بعد میں جبری طور پر جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ یہ اولادیں، جن میں سے بیشتر آج جرمنی سے باہر رہتی ہیں، ان شہروں میں واپس آنے لگی ہیں جہاں ان کے اجداد رہتے تھے، اپنے خاندانی تاریخ کے اس دور کی کوئی یادگار تلاش کرنے کی غرض سے۔

کئی معاملات میں یہ سفر اولادوں اور ان مکانوں کے موجودہ باشندوں کے درمیان براہ راست ملاقاتوں پر منتج ہوئے جو کبھی ان کے اجداد کی ملکیت تھے۔ ان ملاقاتوں میں شریک ہونے والوں کے مطابق ان میں جذبات کا ایک امتزاج تھا: تجسس، خاندانوں کے کھوئے ہوئے خزانوں پر درد، اور خاندانی تاریخ کے اس حصے سے جڑنے کا احساس جو حال ہی تک مجہول تھا۔

ان گھروں کے موجودہ جرمن باشندوں نے اپنی طرف سے اس مقام کی تاریخ جاننے اور اولادوں کی تلاش میں مدد کرنے کی خواہش ظاہر کی، چاہے پرانے دستاویزات اور تصاویر کے تبادلے سے ہو یا انہیں اس جگہ کا دورہ کرنے دینے سے جہاں ان کے اجداد رہتے تھے۔

یہ ملاقاتیں جرمنی میں نازی دور سے پہلے موجود یہودی برادری کی تاریخ کی دستاویزبندی کے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہیں۔ اس دور میں بہت سے خاندان فرار ہونے، جبری جلاوطنی یا ظلم و ستم کا شکار ہوئے تھے۔ یہ انفرادی کہانیاں اس دور کی اجتماعی یاد کو محفوظ رکھنے کی کوشش کا اہم حصہ ہیں، موجودہ نسلوں کو ان خاندانوں کی تاریخ سے جو未 کر جو دہائیوں پہلے ان گھروں میں آباد تھے۔

ذرائع

EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔

اِن زبانوں میں بھی دستیاب: ARENFRRUTR

Comments

گفتگو میں شامل ہونے کے لیے سائن اِن کریں۔

پاس ورڈ بھول گئے؟

اکاؤنٹ نہیں ہے؟

Loading comments…

متعلقہ مضامین

ٹیلر سوئفٹ MTV VMAs کی تاریخ کی سب سے زیادہ ایوارڈ جیتنے والی فنکارہ بن گئیں
cultureاے آئی تجزیہرپورٹ شدہ

ٹیلر سوئفٹ MTV VMAs کی تاریخ کی سب سے زیادہ ایوارڈ جیتنے والی فنکارہ بن گئیں

سوئفٹ نے اپنے 31ویں ویڈیو میوزک ایوارڈ کے ساتھ بیونسے کو پیچھے چھوڑ دیا، پہلا آرٹسٹ ڈائریکٹر آنرز حاصل کیا اور کولن فیرل اور ڈاکوٹا جانسن کے ساتھ خود ڈائریکٹ کیا ہوا ویڈیو پیش کیا۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی
سردی قریب آتے ہی سوات وادی کی ٹراؤٹ مچھلی کھانے کے شائقین کو کالام کی طرف کھینچ رہی ہے
cultureسرکاریاے آئی تجزیہرپورٹ شدہ

سردی قریب آتے ہی سوات وادی کی ٹراؤٹ مچھلی کھانے کے شائقین کو کالام کی طرف کھینچ رہی ہے

شمالی پاکستان میں سرد موسم کی آمد کے ساتھ، سوات کے پہاڑی چشموں سے تازہ پکڑی گئی اور تلی ہوئی ٹراؤٹ مچھلی کالام اور مدین میں سیاحوں کو کھینچ رہی ہے۔

بذریعہ EGazette AI · · 2 منٹ پڑھائی
نازی متاثرین کی یادگاری پتھروں پر جرمن قصبے کی پابندی کو وزیر تعلیم کی تنقید کا سامنا
cultureاے آئی تجزیہرپورٹ شدہ

نازی متاثرین کی یادگاری پتھروں پر جرمن قصبے کی پابندی کو وزیر تعلیم کی تنقید کا سامنا

ایک جرمن قصبے کے نازی متاثرین کی یاد میں چھوٹی پیتل کی "ٹھوکر پتھر" یادگاری تختیوں پر پابندی کے فیصلے کو ملک کے وزیر تعلیم نے "اسکینڈل" قرار دیا۔

بذریعہ EGazette AI · · 2 منٹ پڑھائی