نازی متاثرین کی یادگاری پتھروں پر جرمن قصبے کی پابندی کو وزیر تعلیم کی تنقید کا سامنا
ایک جرمن قصبے کے نازی متاثرین کی یاد میں چھوٹی پیتل کی "ٹھوکر پتھر" یادگاری تختیوں پر پابندی کے فیصلے کو ملک کے وزیر تعلیم نے "اسکینڈل" قرار دیا۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

ایک جرمن قصبے نے "ٹھوکر پتھروں" پر پابندی عائد کر دی ہے، جو نازی ظلم کے متاثرین کی یاد میں فٹ پاتھوں میں نصب چھوٹی پیتل کی یادگاری تختیاں ہیں، اور اس فیصلے پر ملک کے وفاقی وزیر تعلیم نے تنقید کی ہے۔
وزیر تعلیم نے اس پابندی کو اس فیصلے سے متعلق رپورٹنگ کے مطابق "اسکینڈل" قرار دیا، تاہم قصبے نے یادگاروں پر پابندی لگانے کے لیے جو مخصوص وجوہات بیان کیں، وہ دستیاب رپورٹ میں تفصیل سے نہیں بتائی گئیں۔
ٹھوکر پتھر کیا ہیں
ٹھوکر پتھر، جو جرمن زبان میں "Stolpersteine" کہلاتے ہیں، چھوٹی پیتل کی تختیاں ہیں جو نازی ظلم کے متاثرین کے آخری معلوم مکانات کے باہر فٹ پاتھوں میں نصب کی جاتی ہیں اور عموماً ان پر متاثرہ شخص کا نام، تاریخ پیدائش اور انجام درج ہوتا ہے۔ جرمن فنکار گونٹر ڈیمنگ نے 1990ء کی دہائی میں شروع کیا گیا یہ منصوبہ اب جرمنی اور یورپ کے دیگر ممالک میں ہزاروں مقامات تک پھیل چکا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی غیر مرکزی یادگاروں میں سے ایک بن گیا ہے۔
جرمنی کی انفرادی بلدیاتی حکومتیں وقتاً فوقتاً ان پتھروں پر مختلف بنیادوں پر اعتراض کرتی رہی ہیں، جن میں دیکھ بھال کے خدشات یا یادگاری نشانوں پر چلنے کی مناسبیت کے سوالات شامل ہیں، تاہم منصوبے کی وسیع عوامی حمایت کے پیش نظر اس طرح کی پابندیاں نادر ہی ہیں۔
وفاقی حکومت کو اس نوعیت کے مقامی فیصلوں پر براہ راست اختیار حاصل نہیں ہے، جو عموماً بلدیاتی کونسلیں کرتی ہیں، یعنی وزیر تعلیم کی تنقید ایک پابند ہدایت کے بجائے عوامی دباؤ کا کردار ادا کرتی ہے۔
دستیاب رپورٹنگ میں پابندی کے ممکنہ خاتمے کے لیے کوئی ٹائم لائن شامل نہیں تھی۔
ذرائع
- German town bans 'stumbling stone' memorials to Nazi victims — BBC News — World
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

روس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 2022 کے بعد پہلی براہ راست بات چیت کی
روس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے ہفتہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر 2022 میں یوکرین کے خلاف روسی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار آمنے سامنے ملاقات کی۔
روسی اور جرمن وزرائے خارجہ کی یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار بات چیت
ماسکو کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات جرمنی کی درخواست پر ہوئی، جو یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پہلی ایسی بات چیت ہے۔
روس کے وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر جرمن ہم منصب سے ملاقات
روس کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اپنے جرمن ہم منصب سے بات چیت کی، جو جرمنی کی درخواست پر ہوئی۔

رپورٹس: جرمنی شامی مہاجرین کے رضاکارانہ واپسی الاؤنس کو 7,000 یورو تک بڑھانے پر غور کر رہا ہے
میڈیا ذرائع کے مطابق برلن جرمنی چھوڑنے کے خواہشمند افراد کے لیے مالی مراعات بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف رقم سے اس معاملے کی پیچیدگیاں حل نہیں ہوں گی۔

جرمنی اور کوسووو کے درمیان طبی تعاون حمیٰ قرم کونگو نزفی بخار کے کیسز میں کمی میں معاون
جرمنی کی جدید لیبارٹریوں اور کوسووو کی صحت نگرانی ٹیموں کے درمیان سرحد پار سائنسی اور طبی تعاون نے حمیٰ قرم کونگو نزفی وائرس کے انفیکشنز کو کم کرنے میں مدد کی، ایک ایسا تجربہ جسے وبا سے نمٹنے کے نمونے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

برلن: عبادت گاہ کے باہر نازی سلام کرتے ہوئے فلمایا گیا شامی مہاجر نے ووٹنگ کے حقوق بھی مانگے، جرمن میڈیا کی رپورٹ
جرمن اخبارات نے بتایا کہ برلن میں ایک شامی مہاجر کو ایک عبادت گاہ کے باہر نازی دور کا سلام کرتے ہوئے فلمایا گیا اور اس نے علیحدہ طور پر شہری انتخابات میں ووٹ دینے کے حق سے محروم کیے جانے کی شکایت بھی کی۔