RSF commander defects, joins Sudanese army, state media reports
The defecting commander says the decision followed tragedies he witnessed within the paramilitary group.
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

A commander from Sudan's Rapid Support Forces (RSF) paramilitary group has defected and joined the Sudanese army, according to state media cited by Anadolu Agency.
The defecting commander said the decision followed tragedies he witnessed within the RSF, though the report did not elaborate on what specific events prompted his departure or provide his name, rank, or the unit he commanded.
The RSF has been engaged in a prolonged conflict with Sudan's army since fighting broke out between the two forces, a war that has caused a large-scale humanitarian crisis and mass displacement across the country. Defections from either side have periodically been reported amid the conflict, though their overall impact on the balance of forces has varied.
It was not immediately clear how many fighters, if any, followed the commander in defecting, or how the RSF has responded to the reported defection. Sudanese army officials have not been quoted directly in the available report beyond the state media account.
The development comes amid continuing efforts by regional and international actors to broker an end to the conflict, which has persisted despite repeated ceasefire attempts.
ذرائع
- RSF military group defects, joins Sudanese army: State media — Anadolu Agency (Turkey)
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
متعلقہ مضامین
اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال 55,000 سے زائد سوڈانی مہاجرین چاڈ فرار ہو چکے ہیں
سوڈان میں لڑائی اور عدم تحفظ کے بگڑتے حالات کے درمیان گذشتہ ہفتے روزانہ آمد 400 سے تجاوز کر گئی، اناطولو ایجنسی نے اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا۔

مصری وزیراعظم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں: فلسطینی مقصد کے ساتھ کوئی سودے بازی نہیں — عراق اور لبنان نے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری پر زور دیا
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی عمومی بحث کے چوتھے روز مصری وزیراعظم نے فلسطینی مقصد کو سودے بازی کے پتے کے طور پر استعمال کرنے کو مسترد کیا، جبکہ عراقی اور لبنانی حکام نے ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تگرائے میں لڑائی کی واپسی کے ساتھ اریٹریا کا کردار نئی توجہ کیوں کھینچ رہا ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اہم پابندیاں اٹھانے کے بعد اریٹریا کی اسٹریٹجک اہمیت بڑھ رہی ہے، جبکہ حوثی حملے بحیرۂ احمر میں شپنگ کو متاثر کر رہے ہیں اور ایتھوپیا کے تگرائے علاقے میں تشدد دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

سوڈان اور ایتھوپیا کے درمیان میڈیا کشیدگی دونوں ممالک کے تناؤ کی سمت پر سوالات اٹھا رہی ہے
خرطوم اور ادیس ابابا کے درمیان پراسرار فضائی حملوں پر میڈیا الزامات کا تبادلہ دونوں ممالک کے تاریخی تناؤ کو ایک بار پھر سامنے لے آیا ہے۔

ایران نے پڑوسی ممالک کو دھمکی دی: فضائی حدود یا سب کے لیے کھلی ہے یا سب کے لیے بند
تہران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے ایرانی فضائی کمپنیوں پر نئی امریکی پابندیاں نافذ کیں — جن سے ایران آنے جانے والی بین الاقوامی پروازیں محدود ہو گئی ہیں — تو انہیں نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایتھیوپیا بڑھتے ہوئے جبر اور تیگرائے میں ووٹنگ کی غیرموجودگی کے درمیان انتخابات کی تیاری کر رہا ہے
مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ایتھیوپیائی انتخابات ملک کے اندرونی طاقت کے توازن کو نہیں بدلیں گے، کیونکہ سیاسی جبر بڑھ رہا ہے اور تیگرائے خطہ ووٹنگ سے باہر ہے۔
Comments
Loading comments…