گارڈین کالم نگار کا انتباہ: روس کے انتخابات مغربی جمہوریتوں کے لیے سبق
گارڈین میں لکھتے ہوئے، رافیل بیہر کا دعویٰ ہے کہ روس کے سخت کنٹرول شدہ انتخابات سیاسی کنٹرول کی تدبیریں ظاہر کرتے ہیں جو برطانیہ سمیت دوسری جگہوں پر جمہوری اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

روس میں لاکھوں لوگ اس ہفتے کے آخر میں پارلیمانی انتخابات میں ووٹ دینے والے ہیں، ایک ایسے عمل میں جسے گارڈین کے کالم نگار رافیل بیہر صدر ولادیمیر پوتین کے اختیار کو برقرار رکھنے کے لیے تیار شدہ قرار دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اس سے سچی رقابت کے ذریعے سیاسی نتائج کا فیصلہ ہو۔
بیہر کے مطابق، نتیجہ موٹی طور پر ووٹنگ سے پہلے ہی طے ہو چکا ہے: یونائیٹڈ روس، یعنی پوتین سے منسلک حزب، روس کی پارلیمان کے نچلے ایوان ڈوما میں کنٹرول برقرار رکھے گی۔ واحد غیر یقینی چیز، ان کے نزدیک، حکمران حزب کی فتح کی شدت ہے جب ووٹیں گنے جائیں۔
بیہر نوٹ کرتے ہیں کہ پارلیمانی نشستوں کا ایک حصہ دوسری حزبوں کے لیے مختص ہے جو کریملن کی طرف سے مقرر کی گئی حدود کے اندر کام کرتی ہیں، جنہیں وہ "نظامی حزبیں" قرار دیتے ہیں جو سیاسی تنوع کا رنگ تو دیتی ہیں لیکن حکمران اقتدار کو کوئی حقیقی چیلنج نہیں دیتیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ حزبیں دو مقصد پورے کرتی ہیں: عوام کی ناخوشی کو کا نال بنانا، اور روس کی حاکم طبقے میں مختلف حزبوں کو کریملن کی پالیسی کو متاثر کرنے کے لیے ایک ذریعہ فراہم کرنا۔
اپنے کالم میں، بیہر روسی مثال کو جمہوری اعتماد اور اداروں کی تنزلی کے بارے میں وسیع تر تشویشات اٹھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ برطانیہ بھی اسی طرح کی سیاسی چالوں کے لیے محفوظ نہیں ہے، اگرچہ برطانوی جمہوریت کے لیے خطرات کے طور پر نشاندہی کی گئی مخصوص تدبیریں دستیاب ترجمانے میں تفصیل سے بیان نہیں کی گئی ہیں۔
یہ مضمون مغربی میڈیا میں پوتین کی قیادت میں روسی جمہوریت کی حالت اور ساتھ ہی قائم جمہوریتوں میں سیاسی تقسیم اور عوام کے اعتماد میں کمی کے سامنے جمہوری اداروں کی لچک کے بارے میں جاری بحث کا حصہ ہے۔
ذرائع
- To understand the threat to our real democracy, watch Putin's fake one | Rafael Behr — The Guardian — Politics
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
متعلقہ مضامین

روس میں 2022 کے بعد سے پہلا ملک گیر ووٹ، اپوزیشن کے چیلنج کا سوال دوبارہ سامنے آ گیا
الجزیرہ رپورٹ کرتا ہے کہ روسی شہری پہلی بار 2022 کے بعد سے ووٹ دے رہے ہیں، جس سے سوال اٹھتا ہے کہ آیا اپوزیشن پارٹیاں کریملن سے منسلک یونائٹڈ روس پارٹی کو چیلنج کر سکتی ہیں
روس میں 450 اسٹیٹ ڈیوما ممبروں کے انتخاب کے لیے تین روزہ ووٹنگ شروع ہوگئی
تقریباً 111 ملین اہل رائے دہندگان ووٹ ڈالنے والے ہیں جبکہ 11 سیاسی جماعتیں روس کی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان میں نشستوں کے لیے حریف ہیں، اناضول ایجنسی کے مطابق۔

روس کی سول چیمبر نے کہا کہ انتخابات کے لیے 116,000 سے زیادہ عوامی نگرانوں کی تیاری مکمل ہوگئی
حکام نے بتایا کہ انتخابی نگرانوں کی تربیت کے لیے پورے ملک میں ہزاروں براہ راست تربیتی سیشن منعقد ہوئے، تاس کے مطابق۔

انتخابات سے پہلے روسی سفارتخانوں کو دباؤ کا سامنا، زاخاروا کا دعویٰ
ماسکو کے وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخاروا نے دعویٰ کیا کہ انتخابات قریب آنے سے پہلے روسی سفارتی مشنوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

روس کے انتخابات کمیشن کے مطابق بیرون ملک تقریباً 14,000 روسی جلد ووٹ دے چکے ہیں
انتخابات کمیشن کی چیئرپرسن ایلا پام فلووا کا کہنا ہے کہ جلد ووٹنگ سے ملک سے باہر رہنے والے تقریباً 14,000 روسی شہری بغیر کسی تفصیل کے ووٹ ڈال سکے ہیں۔

روس کے انتخابی کمشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انتخابی نظام ووٹنگ کے لیے تیار ہے
سی ای سی کی چیئرپرسن الا پامفیلوہ نے کہا کہ ملک کا انتخابی ڈھانچہ تیار ہے، ٹاس کے مطابق انہوں نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو کامیابی کی خواہش دی۔
Comments
Loading comments…