شام نے قسد کے خاتمے کے بعد دھڑوں کا باب بند کیا: قومی اتحاد کی جانب ایک قدم
دمشق، بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کشادگی اور پیچیدہ اندرونی و علاقائی چیلنجوں کے درمیان قسد کو ریاستی اداروں میں ضم کر کے مسلح دھڑوں کا صفحہ پلٹنے کی کوشش میں ہے۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

شام میں شامی جمہوری افواج (قسد) کے انحلال اور ان کے ارکان کے سرکاری ریاستی اداروں میں انضمام کے اعلان کے ساتھ قابلِ ذکر سیاسی اور سیکیورٹی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ یہ قدم متعدد مسلح دھڑوں کے اس دور کا باب بند کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے جس نے برسوں تک شامی منظرنامے کو متعین کیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی سطح پر دمشق کے حوالے سے کشادگی بڑھ رہی ہے؛ کئی علاقائی اور بین الاقوامی فریق ملک کے گزر رہے عبوری مرحلے کے تازہ جائزے کے تحت شامی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات از سرِنو استوار کرنے کی کوشش میں ہیں۔
پیچیدہ اندرونی چیلنجز
اگرچہ قسد کا ریاستی اداروں میں انضمام سیکیورٹی اور فوجی کوششوں کو ایک چھتری تلے یکجا کرنے کی سمت ایک اہم علامتی قدم ہے، تاہم مبصرین کی نظر میں مکمل استحکام کی منزل ابھی دور ہے کیونکہ شامی معاشرے کے مختلف اجزاء کے درمیان متوقع ریاست کی ہیئت اور اختیارات کی تقسیم کے بارے میں اندرونی اختلافات برقرار ہیں۔
سابق جنگجوؤں کو رسمی ڈھانچوں میں شامل کرنے کے طریقہ کار اور یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا اس قدم میں ان اجزاء کے لیے کافی سیاسی اور انتظامی ضمانتیں شامل ہوں گی جن کی سابقاً قسد نمائندگی کرتی تھی۔
مسلسل علاقائی دباؤ
اندرونی چیلنجوں کے علاوہ دمشق کو پیچیدہ علاقائی دباؤ کا بھی سامنا ہے جہاں کئی ہمسایہ ممالک کے مفادات شامی اندرونی تصفیے کے عمل سے ٹکراتے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی عبور شامی سرحدوں سے آگے تک پھیلی وسیع تر علاقائی مساواتوں سے بھی مشروط ہو جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس عبوری مرحلے کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک شامی حکومت کی اس قابلیت پر ہوگا کہ وہ اندرونی توازن کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس انضمام کا انتظام کرے، اور اس بین الاقوامی کشادگی کے تسلسل پر جس کے خطوط حال ہی میں نمایاں ہونا شروع ہوئے ہیں۔
ذرائع
- سوريا تطوي زمن الفصائل.. فماذا بعد حل "قسد"؟ — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

جرمنی: جنگی جرائم کے الزام میں شامی اور داعش سے تعلق کے الزام میں عراقی گرفتار
جرمن حکام نے 2015 میں جنگی جرائم کے شبہے میں ایک شامی شخص اور داعش تنظیم سے تعلق کے الزام میں ایک عراقی شخص کو گرفتار کیا ہے۔

حوثیوں کا سعودی عرب پر دباؤ، ریاض کے محدود اختیارات بے نقاب
واشنگٹن کی بے دلی اور یورپی طاقتوں کے مبہم رویے کے درمیان یہ سوال لاجواب ہے کہ سعودی عرب پڑوسی یمن میں حوثیوں کے خطرے کو کیسے ختم کرے گا۔
ٹرمپ کا عراق کے نئے وزیراعظم کی تعریف: امریکی افواج کا انخلا مکمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انخلا اور عراقی قیادت میں تبدیلی کو انادولو ایجنسی کے مطابق "امریکہ کے لیے ایک عظیم دن" قرار دیا۔

جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں غزہ میں سات افراد ہلاک
رپورٹس کے مطابق ایک مسافر وین پر ڈرون حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

شام کے اسکولوں میں کردی زبان کے اوقات پر تنازع — کرد علاقوں میں احتجاج بھڑک اٹھا
شامی اسکولوں میں کردی زبان کی تعلیم کو ہفتے میں تین گھنٹوں تک محدود کرنے کے فیصلے نے کرد اکثریتی علاقوں میں ناراضگی کی وسیع لہر اٹھا دی ہے۔

ہنگری میں اوربان دور کی بدعنوانی کا حساب تیز ہوتا جا رہا ہے
وزیراعظم پیٹر میگیار نے اپنے پیشرو وکٹر اوربان سے منسلک نیٹ ورک کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے، گرفتاریاں بڑھ رہی ہیں اور جوابدہی کے لیے عوامی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔