جنوبی افریقہ میں دو الگ الگ فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 27 افراد ہلاک
اسکائی نیوز عربیہ کے مطابق جنوبی افریقہ کے دو مختلف قصبوں میں اجتماعی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے۔
اسکائی نیوز عربیہ کے مطابق جنوبی افریقہ کے دو مختلف قصبوں میں اجتماعی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جوہانسبرگ کے جنوب مغرب میں واقع ویڈیلا اور کیپ ٹاؤن کے قریب لوانڈلے میں فائرنگ کے واقعات ڈربن میں اجتماعی فائرنگ کے چند روز بعد پیش آئے۔
جوہانسبرگ کے جنوب مغرب میں واقع ویڈیلا میں ہنگامی طبی امدادی ٹیموں نے موقع پر ہی تمام 17 متاثرین کی ہلاکت کی تصدیق کر دی، جبکہ پولیس آٹھ ملزمان کی تلاش میں ہے۔
ڈوئچے ویلے کے مطابق، شہر کے میئر نے فائرنگ کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانس 24 — انگلش کی ایک رپورٹ دستیاب اہم تفصیلات پیش کرتی ہے، جس میں دعوے اپنے ذرائع سے ہی منسوب رکھے گئے ہیں۔
آسٹن کے ایک اہلکار نے کہا کہ متاثرہ شخص کو پیچھے کی طرف سے گولی لگی ہے جبکہ قانون سازوں نے آزادانہ تحقیق اور بڈی کیمرہ فوٹیج کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ — سب کچھ دستیاب اہم تفصیلات بیان کرتی ہے، جن کے دعوے ان کے ذرائع سے منسوب کیے گئے ہیں۔
حملہ آوروں نے حملے کے دوران ایک گھر پر دھاوا بول کر ایک گاڑی کو آگ لگا دی، انادولو ایجنسی کے مطابق۔

بی بی سی نیوز — ورلڈ کی ایک رپورٹ میں دستیاب اہم تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن کے دعوے ان کے ذرائع سے منسوب کیے گئے ہیں۔

مہر نیوز (ایران) کی ایک رپورٹ میں دستیاب اہم تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن کے دعوے ان کے ذرائع سے منسوب کیے گئے ہیں۔

بی بی سی نیوز — ورلڈ کی ایک رپورٹ میں دستیاب اہم تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن کے دعوے ان کے ذرائع سے منسوب کیے گئے ہیں۔
لڑکا سڈنی کے شمال مغرب میں چہرے اور گردن میں گولی لگنے کے بعد نازک حالت میں ہے، کیونکہ یہ واقعہ نیو ساؤتھ ویلز میں اسلحہ کنٹرول پر دوبارہ بحث کو جنم دے رہا ہے۔
لڑکے کو نورویسٹ کے ایک اپارٹمنٹ میں چہرے اور گردن میں گولی لگنے کے بعد تشویشناک حالت میں ہسپتال میں داخل کیا گیا، جس سے اسلحہ خریدنے کے مجوزہ منصوبے پر سیاسی بحث دوبارہ شروع ہو گئی۔
آسٹریلوی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا منظم جرائم نے ایک فائرنگ میں کردار ادا کیا جس میں ایک بچے کو زخمی کیا گیا، جبکہ خاندانی تشدد کی قومی تحقیقات پر بحث جاری ہے۔

کرک جب یونیورسٹی کے کیمپس میں ہزاروں افراد سے خطاب کر رہے تھے تو ایک فائرنگ سے انہیں گولی لگی؛ ان کی فیملی کا کہنا ہے کہ حکام نے اپنی ذمہ داری میں ناکامی دکھائی

پولیس نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے اور تحقیق جاری ہے۔