برطانوی وزیر خارجہ کا فلسطین ایکشن پر پابندی کے حوالے سے سرگرم کارکنوں سے آمنا سامنا
احتجاج کرنے والوں نے ایک ریستوران میں ایڈ ملی بینڈ سے تنظیم پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر سوال اٹھائے۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا ایک ریستوران میں سرگرم کارکنوں سے آمنا سامنا ہوا جنہوں نے انہیں فلسطین ایکشن کو حکومتی پابندی لگانے کے فیصلے پر للکارا۔
اس پابندی نے فلسطین ایکشن کو برطانوی قانون کے تحت ایک ممنوع تنظیم قرار دے دیا ہے اور مہم چلانے والوں کی جانب سے اس پر تنقید کی گئی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ گروپ کی سرگرمیوں سے منسلک احتجاجی کارروائیوں کو محدود کرتی ہے۔ یہ آمنا سامنا اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد سے حکومتی وزراء کو درپیش عوامی چیلنجوں کے سلسلے میں ایک اضافہ ہے۔
پس منظر
فلسطین ایکشن پر پابندی اپنے نفاذ کے بعد سے متنازع رہی ہے۔ سول لبرٹیز گروپوں اور بعض قانون سازوں نے اس کے دائرہ کار پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ حکومت نے اس اقدام کا دفاع انہی بنیادوں پر کیا ہے جو پابندی کا اعلان کرتے وقت پیش کی گئی تھیں۔
ملی بینڈ کے ساتھ یہ واقعہ اس نمونے کی تازہ ترین مثال ہے جس میں وزراء کو عوامی مقامات پر سرگرم کارکنوں کی جانب سے براہ راست چیلنج کیا جا رہا ہے، اور جب تک پابندی کے بارے میں بحث جاری ہے یہ سلسلہ توجہ مبذول کرواتا رہا ہے۔
ذرائع
- UK Foreign Secretary confronted by activists over Palestine Action ban — Al Jazeera — All
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

برطانوی لیبر پارٹی کانفرنس کے باہر فلسطین ایکشن کے مظاہرین گرفتار
برطانوی حکومت کی جانب سے فلسطین ایکشن کو "دہشت گرد" تنظیم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

پورٹاڈاؤن میں لائیلسٹ مارچ کا راستہ روکنے کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے
ایک عدالت کی جانب سے 1998 کے بعد پہلی بار اورنج آرڈر پریڈ کو متنازع راستے سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد پیر کو مذاکرات متوقع ہیں۔

میکفیڈن نے لیبر کارکنوں کو فوائد کے نظام کی 'موجودہ صورتحال' کا دفاع نہ کرنے کی تلقین کی
وزیر محنت و پنشن کا استدلال ہے کہ موجودہ فلاحی نظام مستفیدین کو ناجائز طور پر 'خارج' کر دیتا ہے اور اس میں اہم اصلاحات کی ضرورت ہے۔

برنہم نے انگلینڈ کے لیے این ایچ ایس طرز کا مفت سماجی نگہداشت نظام تجویز کیا
اس تجویز میں انگلینڈ میں سماجی نگہداشت خدمات تک مفت رسائی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جسے اگلے عام انتخابات سے قبل ووٹروں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

بيرنهام کا کہنا ہے کہ وہ مفت سماجی نگہداشت کے لیے نئے ٹیکسوں پر اگلے انتخابات لڑنا چاہتے ہیں
آندی بيرنهام نے کہا کہ وہ لیبر کانفرنس میں تقریر سے پہلے انگلستان میں مفت سماجی نگہداشت کی مالی اعانت کے لیے نئے ٹیکسوں کی خطة پر اگلے انتخابات لڑنا چاہتے ہیں۔

برنہم نے لیبر کانفرنس سے قبل انگلینڈ میں مفت سماجی نگہداشت کی فنڈنگ کے لیے نئے ٹیکسوں کا مطالبہ کیا
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں برنہم نے استدلال کیا کہ انگلینڈ میں مفت سماجی نگہداشت کے اخراجات نئے ٹیکسوں سے پورے کیے جانے چاہئیں، اور ان خاندانوں کی نشاندہی کی جو پہلے سے ڈیمنشیا سے متعلق 'بھاری' اخراجات اٹھا رہے ہیں۔