EGEGazette
Live
رپورٹ: سمندری طوفان پولو کا میکسیکو سے ٹکراؤ: باجا کیلیفورنیا سُور میں تیز ہوائیں اور سیلابرپورٹ: روسی افواج نے سومی میں اس اسکول پر حملہ کیا جہاں بچے پناہ لیے ہوئے تھے — میڈیارپورٹ: سمندری طوفان پولو میکسیکو کے بحر الکاہل ساحل سے ٹکرا گیا، سونورا کی جانب بڑھ رہا ہےرپورٹ: کاتالونیا میں ریڈ الرٹ: موسلادھار بارشوں نے پینیدس کو ڈبو دیا، بارسلونا میں میٹرو اور سڑکیں بندمختصراً: میانمار: فوج کی بازار پر فضائی حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک، امدادی ذرائع کا دعویٰرپورٹ: آبنائے ہرمز میں جہاز پر مشتبہ میزائل حملہرپورٹ: آبنائے ہرمز میں پراجیکٹائل کا نشانہ بننے والے بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی: برطانوی میری ٹائم ایجنسیایتھوپیائی فوج نے تگرائی علاقے میں واقع الاماتا قصبے پر قبضے کا اعلان کیاروسی بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد کیف میں شدید دھماکےمختصراً: ایتھوپیا: تگرائے میں ٹی پی ایل ایف اور وفاقی فوج کے درمیان لڑائی میں شدتمیانمار کے باغیوں کا دعوی، حکومتی فوج کے حملوں میں 49 افراد ہلاکرپورٹ: ایتھوپیا کی فوج کا متعدد محاذوں پر باغی اتحاد سے تصادم
دنیارپورٹ شدہ

ٹرمپ-شی سربراہی اجلاس میں تجارت، مصنوعی ذہانت، ایران اور تائیوان کے موضوعات، شی کا ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلا وائٹ ہاؤس دورہ

امریکی اور چینی صدور کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب الجزیرہ کے مطابق تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران کی جنگ پر اختلافات بدستور جاری ہیں۔

· 2 منٹ پڑھائی · زبان: ur

الجزیرہ کی ایک لائیو رپورٹ کے مطابق، چینی صدر شی جن پھنگ کا وائٹ ہاؤس کا دورہ، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں ان کا پہلا دورہ ہے، دونوں سپر پاورز کے درمیان مذاکرات کے مرکز میں تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران کی جنگ کو لے آیا ہے۔

یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان متعدد محاذوں پر کشیدگی عروج پر ہے۔ ٹیرف کے تنازعات اور مسابقتی صنعتی پالیسیوں کے باعث تجارتی کشیدگی برسوں سے برقرار ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندیوں کے حوالے سے اختلافات نے دونوں حکومتوں کے درمیان تنازع کی ایک نئی پرت شامل کر دی ہے۔

تائیوان اور ایران بھی ایجنڈے پر

تائیوان امریکہ-چین تعلقات کے سب سے حساس معاملات میں سے ایک ہے، جہاں واشنگٹن اس خودمختار جزیرے کی غیر رسمی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جسے بیجنگ اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ ایران میں جاری جنگ بھی بحث کا ایک نکتہ بن کر ابھری ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کی سرحدوں سے دور تنازعات کس طرح عالمی طاقتوں کی سفارت کاری میں الجھ گئے ہیں۔

شی کا دورہ ایک طویل وقفے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست سربراہی سفارت کاری کی طرف ایک قابل ذکر واپسی کی نشاندہی کرتا ہے، اگرچہ الجزیرہ کی رپورٹ، جو ایک لائیو بلاگ کی صورت میں پیش کی گئی، اس بات کا اشارہ نہیں دیتی کہ زیر بحث معاملات میں سے کسی پر بھی بڑی پیش رفت متوقع تھی۔ سربراہی اجلاس کے مزید نتائج دورے کے جاری رہنے کے ساتھ سامنے آنے کی توقع تھی۔

ذرائع

EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔

اِن زبانوں میں بھی دستیاب: ARENFRTR

Comments

Sign in to join the conversation.

Forgot password?

No account?

Loading comments…

متعلقہ مضامین