روس کا کہنا ہے کہ وہ مشقوں کے بعد امریکی میزائل ہٹانے کے جاپان کے وعدوں پر یقین نہیں کرتا
روسی نائب وزیر خارجہ آندرے رودنکو نے کہا کہ ماسکو ٹوکیو کی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں کرتا اور خبردار کیا کہ روس کا جواب 'بلا جواب نہیں رہے گا'۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

روس نے پیر کو کہا کہ وہ جاپان کی ان یقین دہانیوں پر یقین نہیں کرتا کہ مشترکہ فوجی مشقوں کے لیے تعینات کیے گئے امریکی میزائل سسٹم بعد میں واپس لے لیے جائیں گے، یہ اعلان ٹاس کے مطابق کیا گیا۔
روسی نائب وزیر خارجہ آندرے رودنکو نے کہا کہ ماسکو ان وعدوں کو شکوک کی نظر سے دیکھتا ہے اور خبردار کیا کہ جوابی اقدامات 'بلا جواب نہیں رہیں گے'، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ روس کیا اقدامات اٹھا سکتا ہے۔
یہ تبصرے ایشیا۔پیسفک خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو لے کر ماسکو اور ٹوکیو کے درمیان پرانی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو واشنگٹن کی طرف سے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ مشقوں اور تبادلاتی تعیناتیوں میں توسیع کے ساتھ زیادہ نازک ہو گیا ہے۔
جاپان نے امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے حصے کے طور پر وقتاً فوقتاً امریکی میزائل سسٹمز اور دیگر ساز و سامان کی میزبانی کی ہے، اور ٹوکیو کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تعیناتیاں عارضی ہوتی ہیں اور مخصوص مشقوں سے منسلک ہوتی ہیں۔
روس نے اپنی سرحدوں کے قریب اور وسیع تر خطے میں امریکی اور اتحادی فوجی سرگرمیوں کے پھیلاؤ پر بار بار تشویش کا اظہار کیا ہے، اور رودنکو کے بیانات روسی حکام کے اس انداز میں اضافے کا حصہ ہیں جس میں واشنگٹن کے علاقائی شراکت داروں کی یقین دہانیوں کو علی الاعلان چیلنج کیا جاتا ہے۔
ذرائع
- Russia does not believe in Japan’s promises to remove US missiles after drills — diplomat — TASS (Russia)
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

روس کے سفیر برائے ہند: بریکس امریکی ڈالر کے استعمال کے مخالف نہیں
ڈینس علیپوف کا کہنا ہے کہ یہ بلاک ترقی پذیر ممالک کو ڈالر کو مسترد کرنے کی بجائے عالمی معاملات میں زیادہ مضبوط آواز فراہم کرتا ہے۔

ایرانی ذریعے کا کہنا ہے کہ نیویارک میں وفد کا امریکا سے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں
اقوام متحدہ میں ایران کے وفد سے قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ نیویارک کے دورے کے دوران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

امریکہ-ایران بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور 28 ستمبر کو ہوگا، ایکسیوس کی رپورٹ
قطری ثالث بالواسطہ مذاکرات کے ایک اور دور سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان مکوک سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ-شی سربراہی ملاقات کے بعد امریکہ-چین جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے 'ٹھوس نتائج' ضروری ہیں
صدر ٹرمپ اور چینی رہنما شی جن پنگ نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کی اور رواں سال مزید دو ملاقاتوں کے اشارے دیے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا دارومدار عملی پیشرفت پر ہوگا۔

روسی اہلکار نے کیف کی حمایت پر مغرب کو جوہری سلامتی کے معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام دیا
ایک روسی سفارت کار نے کہا کہ IAEA کے سربراہ کا زاپوروزھیہ پلانٹ کا منصوبہ بند دورہ منسوخ کر دیا گیا، اور اسے مغرب کی مبینہ خلاف ورزیوں کا حصہ قرار دیا۔

عراقی اہلکار: عراق سے امریکی انخلا مکمل ہو گیا
ایک عراقی حکومتی اہلکار نے کہا کہ تمام امریکی افواج نے انخلا کر لیا اور انہوں نے لاجسٹک سپورٹ دستوں کی روانگی کی بھی نشاندہی کی۔