لاس اینجلس کے معاملے میں نک رینر کے خلاف موت کی سزا نہ دینے کا فیصلہ
ڈسٹرکٹ اٹارنی ندعون ہاکھمن کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ملزم کے بہن بھائیوں سے مشورہ کیا

لاس اینجلس کاؤنٹی کے پراسیکیوٹرز نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ نک رینر کے خلاف موت کی سزا نہیں مانگیں گے، جو قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، جیسا کہ ڈسٹرکٹ اٹارنی ندعون ہاکھمن نے اعلان کیا ہے، بہ روایت NPR نیوز۔
ہاکھمن نے کہا کہ اس کے دفتر نے رینر کے بہن بھائیوں سے بات کی ہے اور اس معاملے میں سخت سزا کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت ان کی خواہشات کو نظر میں رکھا ہے۔
NPR نے اس اقتباس میں رینر کے خلاف الزامات، معاملے کی تفصیلات، یا آنے والی عدالتی کارروائی کے لیے کوئی خاص وقت کی معلومات فراہم نہیں کی۔
ہاکھمن کے دفتر کا یہ فیصلہ پراسیکیوٹرز میں ایک وسیع تر روایت کا عکاس ہے جو قابلِ موت سزا کے معاملات میں سزا دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے متاثرین یا ملزمین کے خاندان کے افراد کی رائے کو سنجیدگی سے غور میں لیتے ہیں۔
معاملے کی مزید تفصیلات، بشمول الزامات کی نوعیت اور قانونی کارروائی میں اگلے قدم، فی الوقت دستیاب نہیں تھے۔
ذرائع
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

ناکام ٹینیسی سزائے موت سے ڈاکٹروں نے طبی شمولیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا
مئی میں ناکام لیتھل انجیکشن کے بعد، ٹینیسی کے درجنوں میڈیکل پروفیشنلز نے گورنر سے صحت کی دیکھ بھال کے کارکنوں کو کسی بھی طریقے سے سزائے موت میں شمولیت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جرمن گرین پارٹی مہینوں کے زوال کے بعد انتخابی رفتار کی بحالی میں کامیاب
تشویش اور مقبولیت میں گراوٹ کے دور کے بعد، پارٹی نے بڑھتے ہوئے سیاسی چیلنجوں کے درمیان غیر متوقع انتخابی نتائج حاصل کیے۔
مراکش کے بادشاہ نے المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم مقرر کیا
فاطمہ الزہرا المنصوری، جن کی پارٹی نے گزشتہ ہفتے کے پارلیمانی انتخابات جیتے، نے اس تقرری کو خواتین کے لیے 'فخر کا باعث' قرار دیا۔

فرانسیسی وزیر اعظم نے 164 گرفتاریوں کے بعد اسکول احتجاج کے بڑھنے کے خلاف خبردار کیا
فرانسیسی وزیر اعظم نے مزید بدامنی کے خلاف خبردار کیا جب پولیس نے جاری طلبہ مظاہروں کے دوران 164 افراد کو گرفتار کیا۔

رپورٹ میں امریکہ میں جنوبی ایشیائی مخالف نفرت انگیز تقریر میں تیز اضافے کا انکشاف
محققین کہتے ہیں کہ یہ اضافہ امیگریشن سیاست، معاشی پریشانی اور ریاستہائے متحدہ میں جنوبی ایشیائی کمیونٹیز کی بڑھتی ہوئی نمایاں موجودگی سے جڑا ہوا ہے۔
پوتن نے روسی مسلح افواج کی منظور شدہ طاقت میں اضافے کا حکم دیا
صدارتی فرمان کے مطابق اناضول ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجموعی فوجی تعداد 2.44 ملین مقرر کی گئی ہے جن میں 15 لاکھ 50 ہزار 500 فعال فوجی شامل ہیں۔