امریکی انٹیلی جنس سربراہ کو مصنوعی ذہانت کی ورکنگ گروپ کی ذمہ داری سونپی گئی
جے کلیٹن کو 120 دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مصنوعی ذہانت کے خطرات اور اس کی 'ضرورت سے زیادہ ریگولیشن' سے بچنے کے طریقوں پر رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔
Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

آر ایف آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر مصنوعی ذہانت کے لیے مختص ایک نئی ورکنگ گروپ کی قیادت سنبھالیں گے، جس کے کام کثیر الجہت اور بعض اوقات متضاد نوعیت کے ہوں گے۔
اس مینڈیٹ کے پہلے مرحلے کے طور پر جے کلیٹن کو 120 دنوں کے اندر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مصنوعی ذہانت کے خطرات نیز شعبے کی «ضرورت سے زیادہ ریگولیشن» سے بچنے کے طریقوں پر رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سرکردہ عہدیداروں نے اپنی طرف سے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اس تناظر میں جہاں امریکی حکام جدت کو بلا روک ٹوک جاری رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس ورکنگ گروپ کو دیا گیا دوہرا مقصد — خطرات کی نشاندہی کرنا اور ساتھ ہی ضرورت سے زیادہ ریگولیشن کو محدود رکھنا — امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی پالیسی کے گرد اس وقت موجود تناؤ کو واضح کرتا ہے۔
رپورٹ ابھی شائع نہیں ہوئی اور دستیاب مواد میں اس کی ساخت یا درست ٹائم لائن کے بارے میں کوئی اضافی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ذرائع
- Le directeur du renseignement américain missionné sur l'IA, entre menaces et prévention de la «surrégulation» — RFI — Français
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
متعلقہ مضامین

واشنگٹن کا جاری کردہ چیٹ بوٹ ٹرمپ کے بعض بیانات کی تردید کرنا بند کر گیا
29 ستمبر کو آن لائن کیا گیا ایک سرکاری چیٹ بوٹ، امریکی صدر کے متنازع بیانات کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال ہونے کے بعد، بعض سوالات کا جواب دینا بند ہو گیا۔

OpenAI نے حساس معلومات لیک کرنے کے الزام میں تین محققین کو برطرف کر دیا
کمپنی نے کئی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا، جن میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ایک بیرونی تشخیصی گروپ کو معلومات دینا بھی شامل ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے ساتھ اخلاقی معاہدے کا اعلان کیا
امریکی صدر نے سرکردہ مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے ساتھ ایک رضاکارانہ اخلاقی فریم ورک کا اعلان کیا جبکہ صنعت کے لیے پابند ضابطہ سازی کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں اپنا موقف بدل لیا ہے اور اب وہ اس کی ترقی کی حمایت کرتے ہیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس اب یہ نہیں مانتے کہ مصنوعی ذہانت وہ انتہائی خطرہ ہے جو انہوں نے پہلے بیان کیا تھا، یہ بات انہوں نے اے آئی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے بعد کہی۔

ٹرمپ کی ٹیک رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں AI خود نگرانی اور ڈیٹا سینٹرز کے فوائد پر زور
ٹیک کمپنیوں کے سرکردہ ایگزیکٹوز کے ساتھ وائٹ ہاؤس کا لنچ ایسے وقت میں ہوا جب AI ریگولیشن کو مضبوط بنانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹرمپ اور سینیٹر ٹام کاٹن کے درمیان ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل کرنے پر تکرار
صدر نے آرکنساس کے رائے دہندگان کو کاٹن پر دباؤ ڈالنے کی تلقین کی، جبکہ سینیٹر نے سردیوں کی تاریک صبحوں کا خدشہ ظاہر کیا۔