ٹرمپ کے تجویز مسترد کرنے کے بعد ایران ہرمز تنازع میں سفارتی حل پر اصرار کرتا ہے
تہران واشنگٹن سے ہرمز آبنائے کی اپنی تجویز پر باضابطہ رد چاہتا ہے جبکہ سفارت کاری کو آگے بڑھاتا رہتا ہے، Axios نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اگلے ہفتے امریکہ-ایران مذاکرات کی توقع رکھتے ہیں۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہرمز آبنائے سے متعلق ایرانی تجویز کو مسترد کرنے کے بعد ایران واشنگٹن سے باضابطہ اور سرکاری جواب پر اصرار کر رہا ہے، حالانکہ تہران مذاکرات کو اپنا ترجیحی راستہ قرار دیتا رہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کہتے ہیں کہ وہ تجویز کی غیر رسمی رد کی بجائے ایک سرکاری رد چاہتے ہیں، جبکہ یہ زور دیتے ہیں کہ سفارتی حل ان کے الفاظ میں موجودہ تعطل سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ ہرمز آبنائے، ایک تنگ آبی گزرگاہ جس سے دنیا کی سمندری تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں بار بار اہمیت اختیار کرتی رہی ہے۔
یہ تجدید شدہ سفارتی کوشش اس وقت سامنے آئی جب امریکی نیوز آؤٹ لیٹ Axios نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات جلد از جلد اگلے ہفتے ہوں گے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کی مخصوص تجویز کے رد کے باوجود دونوں فریق ابھی بھی ایک مذاکراتی راستے کی تلاش میں ہو سکتے ہیں۔
کسی بھی حکومت نے عوامی طور پر تفصیل نہیں بتائی کہ مسترد شدہ تجویز میں کیا تھا یا واشنگٹن کون سا متبادل قبول کر سکتا ہے۔ رپورٹس دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہرمز سے جڑے تناؤ اور وسیع تر امریکہ-ایران تعلقات کو براہ راست تصادم میں بڑھے بغیر کیسے کم کیا جائے۔
یہ پیش رفت ایران کے امریکہ کے تئیں رویے پر بڑھتی توجہ کے دور میں اضافہ کر رہی ہے، تہران کے حکام بار بار مکالمے کی ترجیح پر زور دیتے ہوئے یہ بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ اگر سفارت کاری ناکام ہو گئی تو وہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ذرائع
- رغم رفض ترامب لمقترحها..طهران تصر على الحل الدبلوماسي — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

امریکہ-ایران بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور 28 ستمبر کو ہوگا، ایکسیوس کی رپورٹ
قطری ثالث بالواسطہ مذاکرات کے ایک اور دور سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان مکوک سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑ لیا
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ بحری افواج نے اس اہم آبی گزرگاہ میں ایک Remus 600 زیرِ آب ڈرون پکڑ لیا۔
ایران کا دعویٰ: اس کی افواج نے آبنائے ہرمز میں دوسرا امریکی زیر آب ڈرون قبضے میں لے لیا
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوج نے ریموس 600 کلاس کی زیر آب گاڑی برآمد کی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس سے ڈیٹا نکالنے کے لیے اس کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکہ کا دوسرا زیرِ آب ورون پکڑنے کا دعویٰ کر دیا
ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ کْ مطابق اس نے افم آبی گرگاہ میں امریکہ کی دوسری زیرِ آب گاڑی پکڑ لی ہے، سرکاری میڈیا کے مطابق، تاہم اس رپورٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران کے عراقچی کا دعویٰ: تہران امریکہ کے خلاف 'قیامت خیز جنگ' کے لیے تیار، یورینیم افزودگی کا دفاع
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی 60 فیصد یورینیم افزودگی پرامن اور معاہدوں کے مطابق ہے، جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مکمل تصادم کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے RAF فیئرفورڈ کے قریب گرفتاریوں میں تعاون کیا
امریکی صدر نے کہا کہ گلوسٹر شائر کے فضائی اڈے کے قریب حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد کا مقصد تنصیب کو "بڑا نقصان" پہنچانا تھا۔