گارڈین کے کالم میں ترقی کی رفتار پر تشویش کے درمیان مصنوعی ذہانت پر امریکہ-چین تعاون کا مطالبہ
آسٹریلوی سائنسدان ایلن فنکل کا موقف ہے کہ اے آئی کمپنیوں اور واشنگٹن و بیجنگ کے درمیان غیر منظم مسابقت عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور انہوں نے مربوط نگرانی کا مطالبہ کیا۔

21 ستمبر کو دی گارڈین کی جانب سے شائع ایک تبصرے نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار اور اس کے خطرات کو سنبھالنے کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان تعاون کے امکان پر بحث کو نئی زندگی دی ہے۔
ایلن فنکل کا تحریر کردہ یہ مضمون ٹیکنالوجی انڈسٹری کے اعلیٰ افسران کی ان تنبیہات کا حوالہ دیتا ہے جو اے آئی صلاحیتوں کی ترقی کی رفتار کے بارے میں ہیں، اور اس دعوے کا ذکر کرتا ہے کہ اے آئی کی صلاحیت تقریباً ہر چار ماہ میں دگنی ہو جاتی ہے۔ فنکل نے جائزہ کردہ اقتباس میں اس مخصوص اعداد و شمار کو کسی نامزد ذریعے سے منسوب نہیں کیا۔
فنکل کے کالم میں جیکب کوکسن کا معاملہ اجاگر کیا گیا ہے، جنہیں اے آئی کمپنی انتھروپک میں محقق کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور جنہوں نے مبینہ طور پر اس تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ دیا کہ اے آئی کی ترقی ان کے خیال میں «انسانیت کے ساتھ تصادم کی راہ پر» ہے۔ گارڈین کا مضمون کوکسن کے مخصوص بیانات یا ان کے جانے کے حالات کے بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کرتا۔
فنکل کے مطابق، حالیہ سرخیوں نے اس بات پر توجہ مرکوز کی ہے جسے وہ «موجودہ بحران» کہتے ہیں: ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اور ساتھ ہی امریکہ اور چین کے درمیان غیر منظم مسابقت۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ مسابقت عالمی بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرات پیدا کرتی ہے اور زیادہ انتہائی منظرناموں میں انسانی وجود کے لیے بھی، جس میں خودمختار ہتھیاروں کے نظام اور اے آئی کے ذریعے جبر یا بلیک میلنگ جیسے منظرنامے شامل ہیں۔
کالم میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ اے آئی کی ترقی کے لیے حفاظتی اقدامات قائم کرنے پر مشترکہ بنیاد تلاش کر سکتے ہیں، اور تجویز کیا گیا ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعاون ٹیکنالوجی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔
فنکل کی تجویز کردہ حلوں کا مکمل دائرہ کار، اور ان تنبیہات کے ذرائع پر اضافی سیاق و سباق جن کا وہ حوالہ دیتے ہیں، اس رپورٹ کے لیے دستیاب اقتباس میں تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا تھا۔ گارڈین فنکل کو رائے کے مضمون کے مصنف کے طور پر شناخت کرتا ہے، جو اخبار کے بزنس سیکشن میں کامنٹ از فری بینر کے تحت شائع ہوا۔
نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی چینی حکومتی اہلکاروں کو دونوں رہنماؤں کے درمیان اے آئی گورننس پر کسی مخصوص دوطرفہ مذاکرات کے بارے میں اقتباس میں حوالہ دیا گیا۔
ذرائع
- Can Trump and Xi cooperate to guide humanity through the AI revolution? Humanity might depend on it | Alan Finkel — The Guardian — Business
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
متعلقہ مضامین
مصنوعی ذہانت کے رہنما تباہی کی وارننگ دیتے ہیں، لیکن امریکہ اور چین سست روی کی اپیلوں کو مسترد کر رہے ہیں
صدور ٹرمپ اور شی سے توقع ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی حفاظت پر محدود تعاون پر ہی متفق ہوں گے، جبکہ ٹیکنالوجی کے خطرات سے متعلق تنبیہات بلند ہوتی جا رہی ہیں۔

ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ 'AI فریز' سب سے بڑی AI کمپنیوں کی بالادستی کو مضبوط کر سکتا ہے
ناقدین کا کہنا ہے کہ معروف لیبز میں AI کی ترقی میں سست روی ان کی مارکیٹ طاقت کو مضبوط کر سکتی ہے، بالکل اسی وقت جب چھوٹے حریف اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کینیڈی کے AI کے ماہر کی بغیر کسی نگرانی کے مصنوعی ذہانت سے خطرات کی انتباہ
ایک کینیڈی ترقیاتی کار جسے "AI کا بابا" کہا جاتا ہے، نے انتباہ دیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت پر کوئی کنٹرول نہ رہے تو یہ سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ یہ معلومات Anadolu Agency کی رپورٹ کے مطابق ہے۔

برطانیہ کی AI حفاظت کی قانون سازی کی رفتار کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے
ذرائع کے مطابق کیر سٹارمر کے دور میں تیار کی گئی حکومت کی AI حفاظت کے قانون کی منصوبہ بندی اس خطرے میں ہے کہ توجہ فوری ملکی ترجیحات کی طرف منتقل ہو رہی ہے
امریکہ چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے خطرات پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، خزانے کے سکریٹری بیسنٹ کا کہنا
بیسنٹ کے تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب چینی ڈپٹی پریمیئر ہی لی فینگ کے ساتھ نیویارک میں مذاکرات طے ہیں اور ٹرمپ اور شی کے درمیان واشنگٹن میں منصوبہ بند سمٹ سے پہلے

کانگریس کو مصنوعی ذہانت کی نگرانی پر کارروائی کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا
NPR News کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قانون سازوں میں AI کی نگرانی پر غور و فکر کرنے کی رضامندی میں اضافہ ہو رہا ہے، اگرچہ قانون سازی کا راستہ ابھی غیر یقینی ہے۔
Comments
Loading comments…