EGEGazette
Live
دنیارپورٹ شدہ

ایتھوپیا کے تیگرے کے باغیوں کا دعویٰ: وفاقی حکومت کے ساتھ 'مکمل جنگ' جاری ہے

تیگرے کے باغی نمائندوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ادیس ابابا کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے دوران پڑوسی علاقوں میں شدید توپ خانے کے حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

· 1 منٹ پڑھائی · زبان: ur
Article image
— France 24 — English

ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرے کے باغیوں نے جمعرات کو کہا کہ وہ اب وفاقی حکومت کے ساتھ "مکمل جنگ" کی حالت میں ہیں، یہ بات فرانس 24 کی ایک رپورٹ میں کہی گئی جو اے ایف پی کے حوالے سے دی گئی۔ باغیوں کا کہنا تھا کہ تیگرے سے ملحقہ ریاستوں میں شدید توپ خانے کے حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

یہ بیان ایتھوپیا کی وفاقی حکومت اور تیگرے کے حکام کے درمیان مہینوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ایک شدید اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس خطے نے 2020 سے 2022 تک وفاقی افواج کے خلاف ایک تباہ کن خانہ جنگی لڑی تھی جس میں، افریقی یونین کے تخمینوں کے مطابق، 600,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جو اسے گزشتہ دہائی کے مہلک ترین تنازعات میں سے ایک بناتی ہے۔

دباؤ میں ایک نازک امن

2020-2022 کی جنگ تیگرے کی افواج اور وفاقی حکومت کے درمیان امن معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی تھی، لیکن تعلقات نازک ہی رہے، معاہدے پر عمل درآمد، متنازع علاقوں پر کنٹرول، اور تیگرے کی قیادت کے سیاسی مستقبل پر رگڑ کی وقتاً فوقتاً اطلاعات کے ساتھ۔ بڑے پیمانے پر لڑائی کی تجدید اس امن عمل کے سنگین خاتمے کی علامت ہوگی۔

رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد یا توپ خانے کے مبینہ تبادلوں کے درست مقامات کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے وقت تک ایتھوپیا کی وفاقی حکومت نے باغیوں کے اس صورتحال کے بیان پر کوئی عوامی ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔

ذرائع

EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔

اِن زبانوں میں بھی دستیاب: ARENFRTR

Comments

Sign in to join the conversation.

Forgot password?

No account?

Loading comments…

متعلقہ مضامین

worldبریکنگAI Analysisرپورٹ شدہ

اہم قصبے پر قبضہ وفاقی افواج کے لیے ٹیگرے کے دارالحکومت مکیلے کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار کر سکتا ہے

الجزیرہ — آل کی رپورٹ بنیادی دستیاب تفصیلات پیش کرتی ہے، جبکہ دعووں کو ان کے ذرائع سے منسوب رکھا گیا ہے۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی