کیف کے تین اضلاع میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے جانی نقصان کی اطلاع
روسی ڈرونز کا ملبہ یوکرینی دارالحکومت کے متعدد حصوں میں گرنے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

یوکرین انفارم کے مطابق روسی ڈرونز کا ملبہ کیف کے تین اضلاع میں گرنے کی اطلاع ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔
رپورٹ میں جانی نقصان کی مخصوص تعداد یا یوکرینی دارالحکومت میں ملبہ گرنے سے ہونے والے زخموں یا نقصان کی حد کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
جنگ کے دوران کیف بارہا ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آیا ہے، جہاں روکے گئے ڈرونز کا گرنے والا ملبہ کبھی کبھار زمین پر نقصان یا جانی نقصان کا باعث بنتا ہے، چاہے ڈرونز کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا جائے۔
یوکرینی حکام نے ابھی تک واقعے کے بعد نقصان کا مکمل جائزہ یا متاثرہ اضلاع اور جاری امدادی کارروائیوں کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
ذرائع
- UAV debris found in Kyiv — Ukrinform (Ukraine)
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین
روسی ڈرون حملے میں نوو ہورود-سیورسکی میں چار افراد زخمی، جن میں دو بچے بھی شامل
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے اتوار کی شام چرنیہیو ریجن کے اس شہر پر ڈرون سے حملہ کیا۔
روسی ڈرون کا کیف میں نو منزلہ رہائشی عمارت پر حملہ
یوکرینی حکام کے مطابق ڈرون حملے نے یوکرینی دارالحکومت کے دارنیتسکی ضلع میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔
زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس نے ایک دن میں یوکرین پر 277 حملہ آور ڈرون داغے
صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس نے 24 گھنٹوں کے دوران یوکرین کے خلاف 277 حملہ آور ڈرون استعمال کیے، جن میں 155 جیٹ سے چلنے والے ماڈل شامل تھے، یوکرینفارم کے مطابق۔

کیف میں دھماکوں کی اطلاع
یوکرینی دارالحکومت میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جو ملک بھر میں حملوں سے بھرپور دن میں ایک اور اضافہ ہے۔
روسی ڈرون حملے میں Fastiv ضلع (Kyiv علاقہ) میں ایک تنصیب کو نقصان، ایک شخص زخمی
27 ستمبر کو Kyiv علاقے کے Fastiv ضلع پر روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک یوکرینی تنصیب کو نقصان اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔

روس کے سفیر برائے ہند: بریکس امریکی ڈالر کے استعمال کے مخالف نہیں
ڈینس علیپوف کا کہنا ہے کہ یہ بلاک ترقی پذیر ممالک کو ڈالر کو مسترد کرنے کی بجائے عالمی معاملات میں زیادہ مضبوط آواز فراہم کرتا ہے۔