جرمنی آذربائیجان اور افریقہ میں توانائی اور معدنیات کے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے
برلن روسی گیس پر انحصار ختم ہونے اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان توانائی اور خام مال کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
EGazette کے مصنوعی ذہانت نے تحریر کیا۔ حقائق حوالہ شدہ ذرائع سے لیے گئے ہیں؛ تجزیہ خود اے آئی کا ہے۔

جرمن حکومت اپنی توانائی اور اہم خام مال کی فراہمی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش میں ہے، اور یہ قدم روسی گیس پر انحصار کے باب کی بندش اور ان علاقائی کشیدگیوں کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے جو روایتی سپلائی چینز کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر فریڈریش میرٹز اور وزیر خارجہ یوہان واڈیفول، جرمن صنعت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قدرتی گیس اور بنیادی معدنیات کی فراہمی محفوظ بنانے کی غرض سے آذربائیجان اور متعدد افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے پر کام کر رہے ہیں۔
تنوع کی راہ میں رکاوٹیں
تاہم یہ سمت بغیر چیلنجز کے نہیں ہے؛ چند ہدف ممالک میں جرمنی کی ضرورت کے مطابق بڑی مقدار میں گیس یا معدنیات برآمد کرنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے، جبکہ ان میں سے بعض ممالک میں حکمرانی اور سیاسی استحکام کے مسائل جرمن سرمایہ کاروں کی تشویش کا باعث ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دیگر یورپی ممالک بھی انہی نئے سپلائرز کے ساتھ ملتی جلتی معاہدوں کے لیے مسابقت میں ہیں، جس کے نتیجے میں ان وسائل کو محفوظ بنانے کی لاگت بڑھ سکتی ہے یا طویل مدتی معاہدوں کو حتمی شکل دینے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ توانائی اور معدنیات کے ذرائع کو متنوع بنانے میں جرمنی کی کامیابی اس کی صنعت کی مسابقتی صلاحیت برقرار رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی، خاص طور پر ان شعبوں میں جو نایاب معدنیات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جیسے الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجی۔
یہ کوششیں یورپی یونین کی اس وسیع تر حکمت عملی کے تناظر میں ہیں جو توانائی اور اہم خام مال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی ایک سپلائر یا کسی ایک جغرافیائی علاقے پر انحصار کم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
ذرائع
- ميرتس وفاديفول يستكشفان مصادر جديدة للمواد الخام لإنقاذ ألمانيا — Deutsche Welle — Arabic
EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔
Comments
Loading comments…
متعلقہ مضامین

یورپ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے پر جرمن اور روسی وزرائے خارجہ کے درمیان غیر معمولی مذاکرات
روس کے سرگئی لاوروف نے جرمنی کے یوہان ووڈیفول کی اس اپیل کو مسترد کر دیا کہ ماسکو وہ "خطرناک راستہ" ترک کرے جسے برلن یورپ کے ساتھ "تصعید کا راستہ" قرار دیتا ہے۔

روس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 2022 کے بعد پہلی براہ راست بات چیت کی
روس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے ہفتہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر 2022 میں یوکرین کے خلاف روسی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار آمنے سامنے ملاقات کی۔
روسی اور جرمن وزرائے خارجہ کی یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار بات چیت
ماسکو کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات جرمنی کی درخواست پر ہوئی، جو یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پہلی ایسی بات چیت ہے۔
روس کے وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر جرمن ہم منصب سے ملاقات
روس کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اپنے جرمن ہم منصب سے بات چیت کی، جو جرمنی کی درخواست پر ہوئی۔

ایران کے صدر پیزشکیان نیویارک میں پانچ روزہ دورے کے بعد وطن واپس، ہجوم نے استقبال کیا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دورے کے بعد صدر مسعود پیزشکیان کا تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگوں نے استقبال کیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات کے باوجود ہرمز منصوبے کو باضابطہ مسترد نہیں کیا گیا
ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے تہران کے آبنائے ہرمز منصوبے کو رد کرنے والے عوامی بیانات سے آگاہ ہیں، لیکن انہیں اس سلسلے میں کوئی باضابطہ پیغام موصول نہیں ہوا۔