EGEGazette
Live
امریکی ساحل کے قریب لاپتہ ہونے والے طیارے کا ملبہ دریافتایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ طے شدہ شرائط پوری نہیں کرتاامریکی کوسٹ گارڈ میساچوسٹس کے ساحل کے قریب لاپتہ ایئر ایمبولینس کی تلاش میںچھ افراد کو لے جانے والا ایئر ایمبولینس طیارہ میساچوسٹس کے ساحل کے قریب ریڈار سے غائبچھ افراد کو لے جانے والا طبی طیارہ میساچوسٹس کے ساحل کے قریب لاپتہتوانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جی 7 100 ملین بیرل تیل اور ڈیزل جاری کرے گاٹرمپ: ایران کے ساتھ جنگ جلد "کسی نہ کسی طرح" ختم ہو جائے گیامریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل بے روزگاری میں اضافہ، ستمبر میں صرف 29 ہزار ملازمتیں پیداوسط مدتی انتخابات سے قبل بے روزگاری کی شرح میں اضافے کے ساتھ امریکہ میں ملازمتوں کی نمو میں شدید کمیآبنائے ہرمز میں ٹینکر پر میزائل حملہ.. ٹرمپ کی دھمکی، فلائی دبئی حادثے میں ملوث ثابت ہونے پر ایران پر حملہ کیا جائے گااماراتی عہدیدار نے فلائی دبئی طیارہ واقعے کو ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کے دوران "سنگین دہشت گردانہ کارروائی" قرار دیا
دنیابریکنگAI Analysisرپورٹ شدہ

ہرمز آبنائے کے قریب دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ؛ حوثیوں کے خلاف سعودی فوجی آپریشن کی اطلاعات

سعودی قیادت والے اتحاد نے خطے میں دو ٹینکروں پر حملے کے بعد حوثیوں کے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

بذریعہ EGazette AI · · 1 منٹ پڑھائی · زبان: ur

Written by EGazette’s AI. The facts are drawn from cited sources; the analysis is the AI’s own.

Article image
— Deutsche Welle — Arabic

ہرمز آبنائے کے آس پاس دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا، یہ اس وقت ہوا جب خلیج کے خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔ جرمنی کے ریڈیو ادارے ڈوئچے ویلے کی عربی سروس نے اس خبر کو نشر کیا۔ حملے کے ذمہ دار کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا اور یہ واقعہ خطے کی دیگر فوجی پیش رفت کے ساتھ ہم وقت پیش آیا۔

اسی تناظر میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے اعلان کیا کہ اس نے یمنی حوثی گروپ کے داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا، جبکہ ایک گولہ ایک اسکول پر آ گرا۔ اس گرنے والے گولے سے ہونے والے نقصان یا جانی نقصان کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا۔

اہلکاروں کے مطابق ریاض ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ سعودی حکام کی جانب سے اس گروپ سے منسوب میزائل اور بحری حملوں کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ آپریشن کی ٹائمنگ یا دائرہ کار کے حوالے سے ابھی تک کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔

یہ تمام پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خلیج کا خطہ کئی سالوں سے بڑھتی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ حوثی ان جہازوں اور تنصیبات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں جنہیں وہ علاقائی تنازع کے فریقوں سے منسلک قرار دیتے ہیں۔ دو ٹینکروں پر حملے کی تفصیلات اور اس کے پیچھے موجود افراد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

حوثی تنظیم کی جانب سے میزائل روکنے کے سعودی دعووں پر ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل نہیں آیا، جبکہ متعدد بین الاقوامی ادارے خطے کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔

ذرائع

EGazette کئی ذرائع سے خبروں کا خلاصہ کرتا ہے؛ اصل کے لیے لنکس دیکھیں۔

اِن زبانوں میں بھی دستیاب: ARENESFRRUTR

تبصرے

Sign in to join the conversation.

Forgot password?

No account?

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…

متعلقہ مضامین